اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے اپنے بیڑے میں چار طیارے شامل کرنے اور جنوری 2027 میں کراچی سے برطانیہ کے لیے پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ پارلیمانی سیکریٹری برائے دفاع اسامہ سرور نے قومی اسمبلی میں ایک توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ بیڑے میں اضافے کا عمل مرحلہ وار ہوگا اور نئے طیاروں سے مزید روٹس پر آپریشن کی گنجائش پیدا کی جائے گی۔

پارلیمانی سیکریٹری کے مطابق پہلے طیارے کو یکم نومبر 2026 سے آپریشنل کرنے کا پروگرام ہے، جبکہ دوسرا طیارہ 15 نومبر کو پی آئی اے کو ملنے کی توقع ہے۔ دوسرے طیارے کے روٹ کا فیصلہ اس کی آمد کے بعد کیا جائے گا۔ مزید دو طیارے جنوری 2027 میں بیڑے میں شامل ہوں گے اور کراچی سے آپریشن شروع کریں گے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ کراچی سے برطانیہ کی پروازیں بھی جنوری میں شروع کی جائیں گی۔

بحث کا پس منظر حال ہی میں لیز پر لیے گئے بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر کے پاکستان اور برطانیہ کے روٹس میں کراچی کو شامل نہ کیے جانے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس تھا۔ اسامہ سرور نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری ہو چکی ہے اور کمپنی ایک آزاد بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تحت کام کر رہی ہے، اس لیے حکومت اسے کسی مخصوص روٹ پر پرواز چلانے کی براہ راست ہدایت نہیں دے سکتی۔ تاہم انہوں نے کراچی سے برطانیہ رابطے کی بحالی کے لیے جنوری کا ہدف بیان کیا۔

پی آئی اے نے رواں ماہ کے اوائل میں نارویجن کمپنی نورس اٹلانٹک کے ساتھ دو بوئنگ 787-9 ڈریم لائنرز کے لیے شراکت داری کا اعلان بھی کیا تھا۔ اس انتظام کے تحت طیارہ، عملہ، دیکھ بھال اور انشورنس فراہم کرنے کا ماڈل اختیار کیا گیا ہے اور ان طیاروں کو طویل فاصلے کے برطانیہ روٹس پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

قومی اسمبلی میں دی گئی تازہ بریفنگ میں چاروں طیاروں کے مکمل ماڈل، مالی شرائط یا ہر نئے روٹ کی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ اسی طرح کراچی سے برطانیہ کے لیے مخصوص منزل اور ہفتہ وار فریکوئنسی بھی ابھی سامنے نہیں آئی۔ اس لیے مسافروں کے لیے حتمی شیڈول پی آئی اے کی باقاعدہ بکنگ اور روٹ اعلان کے بعد واضح ہوگا۔