اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے آٹھ موجودہ اور سابق سینئر افسران کے خلاف فائر سیفٹی سے متعلق مبینہ انتظامی کوتاہیوں کی تحقیقات کے لیے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کارروائی سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت شروع کی گئی ہے اور کمیٹی کو 60 روز میں تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ کارروائی پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں جولائی کے دوران پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے اور بعد میں اگست میں ہسپتال میں لگنے والی آگ کے تناظر میں کی جا رہی ہے۔ چارج شیٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جولائی کے واقعے کے بعد آگ لگنے کی وجوہات، انخلا اور ہنگامی ردعمل سے متعلق خامیوں پر مناسب اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے۔ دستاویز میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ بروقت حفاظتی اقدامات سے اگست کے واقعے کے خطرات کم کیے جا سکتے تھے۔ یہ نکات الزامات ہیں اور ان کی حتمی حیثیت انکوائری کے نتائج سے طے ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اگست کے آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس واقعے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ انہیں جولائی میں نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ چارج شیٹ میں متعلقہ افسران پر مؤثر، دستاویزی اور قابل تصدیق فائر اینڈ لائف سیفٹی نظام یقینی نہ بنانے کے الزامات شامل ہیں۔
انکوائری کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری تجارت جواد پال کریں گے جبکہ سیکریٹری تعلیم ندیم محبوب اور سیکریٹری انسانی حقوق عبد الخالق شیخ اس کے ارکان ہیں۔ جوائنٹ سیکریٹری ہسپتال محمد بخش سانگی کو محکمانہ نمائندہ مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو تحقیقات مکمل ہونے کے سات روز کے اندر رپورٹ پیش کرنا ہوگی، جس میں واضح کیا جائے گا کہ الزامات ثابت ہوئے یا نہیں اور بریت یا تادیبی کارروائی سے متعلق سفارشات بھی دی جائیں گی۔
چارج شیٹ آٹھ افسران کو دی گئی ہے، جن میں سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر اور دیگر انتظامی و طبی عہدیدار شامل ہیں۔ ایک افسر کو تحریری جواب جمع کرانے کے لیے 14 دن دیے گئے ہیں۔ قواعد کے تحت الزامات ثابت ہونے کی صورت میں مختلف تادیبی سزائیں ممکن ہیں، تاہم اس مرحلے پر کسی افسر کو قصوروار قرار نہیں دیا گیا اور ذمہ داری کا تعین انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگا۔
