اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں آتشزدگی کے واقعے پر قائم تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے آٹھ افسران کو معطل کرنے اور ذمہ دار قرار دیے جانے والے افراد کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے یہ فیصلے لاہور میں اپنی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں عبوری رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد کیے۔
رپورٹ کے مطابق معطل کیے جانے والے حکام میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر سمیت ہسپتال اور متعلقہ اداروں کے متعدد افسران شامل ہیں۔ وزیراعظم آفس کے بیان میں کہا گیا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی نشاندہی کی بنیاد پر محکمانہ کارروائی کے ساتھ قانونی کارروائی بھی کی جائے گی اور ذمہ داری کے تعین میں امتیاز نہیں برتا جائے گا۔ سکیورٹی فراہم کرنے والی کمپنی اور اس کے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
وزیراعظم نے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرنے اور ہٹائے گئے افسران کی جگہ فوری تقرریاں کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے عبوری تحقیقاتی رپورٹ فوری طور پر جاری کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ ابتدائی نتائج عوام کے سامنے آ سکیں۔
عبوری رپورٹ میں آگ لگنے کی حتمی اور قطعی وجہ متعین نہیں کی گئی۔ تحقیقاتی ٹیم کے مطابق بعض انکیوبیٹرز کی حالیہ مرمت کے ریکارڈ موجود تھے، تاہم یہ ریکارڈ آلات، پلگ، ساکٹ یا متعلقہ برقی سرکٹ کی مکمل برقی حفاظت ثابت نہیں کرتے۔ رپورٹ نے کہا کہ اندرونی برقی یا کسی آلے سے متعلق وجہ کا امکان موجود ہے، لیکن کسی مخصوص آلے یا پرزے کو اس مرحلے پر آگ کا ثابت شدہ سبب قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
تحقیقات میں ہسپتال کے آگ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات میں اہم خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق پمز میں آگ سے نمٹنے، الارم فعال کرنے، بیرونی اداروں کو اطلاع دینے، ایمرجنسی کمانڈ، آکسیجن یا بجلی منقطع کرنے، ہنگامی راستے کھولنے اور نومولود بچوں کے محفوظ انخلا کے لیے جامع، باقاعدہ طور پر ابلاغ شدہ اور مشق شدہ طریقہ کار کا واضح ثبوت سامنے نہیں آیا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ ہسپتال میں فوری طور پر فائر، لائف سیفٹی اور برقی نظام کا جامع آڈٹ کرایا جائے، خصوصاً نوزائیدہ بچوں کے یونٹ، انتہائی نگہداشت کے شعبوں اور دیگر زیادہ خطرے والے مقامات کو ترجیح دی جائے۔
ڈان کے مطابق 26 اگست کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد ہسپتال انتظامیہ اور بعض عینی شاہدین کے بیانات میں امدادی کارروائی اور داخلی راستوں سے متعلق اختلافات بھی سامنے آئے، جنہیں تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے۔ وزیراعظم نے واقعے کے بعد اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی، جبکہ پارلیمان میں بھی اس سانحے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور جواب دہی کا مطالبہ کیا گیا۔
وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ غفلت کے ذمہ داروں کے ساتھ نرمی نہیں کی جائے گی۔ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی معاوضے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اسی دوران وزیراعظم نے نرس رضیہ نورین کے لیے ستارۂ خدمت اور 10 لاکھ روپے انعام کی منظوری دی، جن کے بارے میں وزیراعظم آفس نے کہا کہ انہوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک بچے کو بچایا۔
عبوری رپورٹ حتمی تحقیقات کا متبادل نہیں ہے اور آگ کے اصل سبب سمیت بعض نکات پر مزید تکنیکی جانچ باقی ہے۔ اس لیے ذمہ داری اور واقعے کی مکمل وجوہات کے بارے میں حتمی نتیجہ تحقیقاتی کمیٹی کی جامع رپورٹ اور متعلقہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔
— اردو ہیڈلائنز ڈیسک، ماخذ: ڈان/اے پی پی




