اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں خریداری کے عمل میں تعطل کے باعث داخل مریضوں کو مفت ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی مسلسل فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ڈان کے مطابق ایک سینئر افسر نے بتایا کہ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران کوئی ٹینڈر دستخط نہیں ہوا، جبکہ ہسپتال کے بعض ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دستیاب ادویات اور انجیکشن کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
پمز میں داخل مریضوں کو ادویات اور انجیکشن بلا معاوضہ فراہم کیے جاتے ہیں، جس کے لیے مسلسل خریداری ضروری ہے۔ ایک سینئر ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹینڈرز کی منظوری نہ ہونے سے نئی سپلائی متاثر ہوئی اور موجودہ ذخیرہ کم ہو رہا ہے۔ یہ خدشہ ہسپتال کے اندرونی ذرائع کی معلومات پر مبنی ہے؛ رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ تمام مفت ادویات کی فراہمی مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔
نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالق نے کہا کہ انہیں عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹینڈرز میں تاخیر کا علم ہوا اور انہوں نے دستاویزی عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کے مطابق مریضوں کو سہولیات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور مسئلہ چند دن میں حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محکمہ خزانہ کے ایک افسر نے بتایا کہ عہدوں میں تبدیلی کے بعد ایف بی آر میں مجاز دستخطوں کی منظوری میں وقت لگنا بھی لین دین میں رکاوٹ کا سبب بن سکتا ہے۔
پمز پہلے ہی اگست میں نوزائیدہ بچوں کے یونٹ میں آگ کے سانحے کے بعد انتظامی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد متعدد افسران معطل کیے گئے اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی ذمہ داریوں میں تبدیلیاں ہوئیں۔ موجودہ خریداری مسئلے کو اسی انتظامی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم ادویات کی کمی اور سابق آتشزدگی کے واقعے کو براہ راست ایک ہی سبب سے جوڑنے کا کوئی حتمی ثبوت رپورٹ میں نہیں دیا گیا۔
ہسپتال انتظامیہ کے لیے فوری چیلنج ٹینڈرز اور ادائیگی کی دستاویزات مکمل کر کے ادویات کی سپلائی برقرار رکھنا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا حتمی اندازہ اس بات سے ہوگا کہ موجودہ ذخائر کتنے دن کے لیے کافی ہیں اور نئے خریداری آرڈرز کب منظور ہوتے ہیں۔
