اسلام آباد: بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے کے لیے پاکستان آ رہے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق دورے کے دوران دونوں وزرائے خارجہ پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔
اجلاس میں دونوں ممالک کے مجموعی دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا اور تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون، دفاع و سلامتی، محنت و افرادی قوت اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات ہوگی۔ دونوں فریق باہمی دلچسپی کی علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
یہ دورہ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان کی خلیجی ممالک کے ساتھ بڑھتی سفارتی سرگرمی کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔ پاکستان اور بحرین کے درمیان دیرینہ سیاسی، اقتصادی اور افرادی قوت کے روابط ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں پاکستانی شہری بحرین میں کام کرتے ہیں۔ مشترکہ وزارتی کمیشن دونوں حکومتوں کو مختلف وزارتوں اور شعبوں کے زیر التوا معاملات اور نئے تعاون کے منصوبوں کا باضابطہ جائزہ لینے کا فورم فراہم کرتا ہے۔
سرکاری اعلان میں دورے کے ایجنڈے کے اہم شعبے بیان کیے گئے ہیں، تاہم کسی مخصوص نئے معاہدے، سرمایہ کاری رقم یا دفاعی انتظام کی پیشگی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے اجلاس سے ممکنہ نتائج کو مذاکرات مکمل ہونے اور دونوں حکومتوں کی جانب سے باضابطہ اعلانات تک حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔
دورے کے دوران علاقائی سلامتی، خلیج کی صورتحال اور عالمی سفارتی معاملات بھی گفتگو میں شامل رہیں گے۔ پاکستان کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ بحرینی وزیر خارجہ کے دورے کا بنیادی باضابطہ مقصد دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کا انعقاد ہے۔
