اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا۔ وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق ملاقات میں خیبر پختونخوا کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ خیبر پختونخوا بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح ترقی کرے اور دہشت گردی کے خلاف صوبے کے عوام کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صوبے میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گرد حملوں اور سکیورٹی کارروائیوں میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ ڈان کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد میں اگست کے دوران، ضم اضلاع کے علاوہ، خیبر پختونخوا میں 54 دہشت گرد حملے درج ہوئے تھے، جبکہ جولائی میں یہ تعداد 36 تھی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق امیر مقام نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں جاری معاملات اور پیش رفت کے بارے میں وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ دونوں خطوں کے عوام کی فلاح، ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی ترقی اور وہاں کے عوام کی خوشحالی وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
یہ ملاقات وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان انسداد دہشت گردی کی پالیسی پر سیاسی اختلافات کے پس منظر میں بھی اہم ہے۔ تاہم وزیراعظم آفس کے جاری بیان میں کسی نئی فوجی کارروائی، مخصوص آپریشنل منصوبے یا صوبائی حکومت کے خلاف کسی آئینی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے وزیراعظم کے بیان کو دہشت گردی کے خلاف پالیسی عزم اور سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی نئے آپریشن کے باضابطہ حکم کے طور پر۔
خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتحال وفاقی اور صوبائی حکومتوں دونوں کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں شمالی وزیرستان سمیت مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ وزیراعظم کے تازہ بیان کے بعد عملی پیش رفت کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان تعاون، پولیس اور انسداد دہشت گردی اداروں کی صلاحیت اور متاثرہ علاقوں میں شہری تحفظ کے اقدامات کس طرح آگے بڑھتے ہیں۔
