اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی انسداد دہشت گردی عدالت نے وکلا ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر ایک مقدمے میں باضابطہ فردِ جرم عائد کر دی ہے جس کا تعلق بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ میں مبینہ خلل اور عوامی بے چینی پر اکسانے کے الزامات سے ہے۔ ڈان کے مطابق جج طاہر عباس سپرا نے کارروائی کی صدارت کی اور دونوں ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔

ہادی چٹھہ نے فرد جرم عائد کیے جانے سے پہلے اعتراض کیا کہ انہیں مقدمے کی دستاویزات کی نقول فراہم نہیں کی گئیں اور تمام قانونی تقاضے مکمل کیے بغیر فرد جرم عائد نہیں ہونی چاہیے۔ دونوں کی وکیل زینب جنجوعہ نے بھی عدالت کے سامنے یہی مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ ملزمان کو اپنے وکلا سے ملاقات کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ عدالت نے اعتراضات کے باوجود فرد جرم عائد کر دی اور جج نے کہا کہ ملزمان چاہیں تو حکم کو قانونی طور پر چیلنج کر سکتے ہیں۔

عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کو جمعہ کے لیے طلب کرتے ہوئے دونوں ملزمان کی اگلی سماعت پر پیشی کا حکم دیا اور کارروائی 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ اس سے ایک روز پہلے ویڈیو لنک میں بجلی کی بندش کے باعث فرد جرم کی کارروائی مؤخر ہوئی تھی۔

فرد جرم عائد ہونا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا۔ اس مرحلے پر استغاثہ کو اپنے الزامات شواہد اور گواہوں کے ذریعے ثابت کرنا ہوں گے، جبکہ ملزمان کو دفاع اور عدالتی احکامات چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے۔ مقدمے میں بیان کردہ سکیورٹی روٹ میں خلل، نعرے بازی یا عوامی بے چینی سے متعلق نکات الزامات ہیں، حتمی عدالتی نتائج نہیں۔

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ گزشتہ مہینوں میں متعدد قانونی کارروائیوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ستمبر میں ایک الگ پیکا مقدمے میں ان کی سزائیں معطل کی تھیں، تاہم بعد میں انہیں دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ موجودہ خبر صرف تازہ انسداد دہشت گردی مقدمے میں فرد جرم کے مرحلے سے متعلق ہے اور سابق یا دیگر مقدمات کے حتمی نتائج سے اسے الگ سمجھنا ضروری ہے۔