وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں فائر سیفٹی سمیت فوری اصلاحاتی اقدامات تین ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ فیصلہ اس انکوائری رپورٹ کے جائزے کے بعد سامنے آیا جس میں 26 اگست کو مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال میں لگنے والی آگ کے پس منظر میں انتظامی اور ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس واقعے میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے تھے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق اجلاس میں پمز کی انکوائری رپورٹ اور وزارت قومی صحت کی جانب سے ہسپتال کے پرفارمنس آڈٹ کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ جانچے گئے اشاریوں میں پمز کی تعمیل 39.7 فیصد ریکارڈ ہوئی، جو قابل قبول ہدف سے کم تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انکوائری میں تجویز کیے گئے قلیل مدتی اقدامات پر آئندہ تین ماہ میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ انکوائری رپورٹ میں شامل 37 اقدامات پر فوری بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے پمز کے فائر سیفٹی نظام کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ سے معاونت اور سفارشات لینے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے عالمی ادارۂ صحت کی متعلقہ سفارشات کو بھی اصلاحاتی منصوبے میں شامل کرنے اور ہسپتال میں ادویات اور سہولتوں کی مفت فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات پر زور دیا۔
وزیراعظم نے پمز کے لیے طویل مدتی بہتری کا جامع منصوبہ تیار کرنے اور انتظامی امور میں اچھی شہرت رکھنے والے اہل افراد کی تقرری کی ہدایت کی۔ اس کے ساتھ پولی کلینک ہسپتال کا آڈٹ، بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور ادارے کی تنظیم نو کا منصوبہ تیار کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ محکموں کو اسلام آباد کے سرکاری و نجی ہسپتالوں، دفاتر اور عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ اور حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انکوائری رپورٹ میں بیان کردہ ذمہ داریوں اور خامیوں کے حوالے سے آئندہ انتظامی کارروائی متعلقہ قواعد اور سرکاری فیصلوں کے مطابق ہوگی؛ تازہ اجلاس کا مرکزی نکتہ فوری حفاظتی اصلاحات اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے مقررہ مدت طے کرنا تھا۔
