لاہور: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی نے 15 ڈاکٹروں کے خلاف تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق کارروائی ان الزامات سے متعلق تھی جن میں مریضوں کی دیکھ بھال میں خلل، دوسروں کو طبی علاج روکنے پر اکسانا، سڑکیں بند کرنا اور وارڈز و ایمرجنسی خدمات کی بندش شامل تھی۔

رپورٹ میں پی ایم ڈی سی کے مؤقف کے حوالے سے کہا گیا کہ ڈسپلنری کمیٹی نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایکٹ 2022 کی دفعہ 44 کے تحت کیس کی باضابطہ سماعت مکمل کی۔ کارروائی پنجاب حکومت کی جانب سے موصول ہونے والے ریفرنسز کی بنیاد پر کی گئی اور متعلقہ ڈاکٹروں سے جواب طلب کرنے کے بعد انہیں اپنی انفرادی وضاحت پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔

پی ایم ڈی سی کے مطابق سماعت کے عمل کے بعد الزامات ثابت ہونے پر تادیبی اقدام کیا گیا۔ رپورٹ میں جن ڈاکٹروں کے نام دیے گئے ان میں ڈاکٹر عارف عزیز، ڈاکٹر شعیب نیازی، ڈاکٹر سلمان حسیب، ڈاکٹر فخر منیر سیال، ڈاکٹر ندیم ثاقب، ڈاکٹر واجد علی، ڈاکٹر عامر بشیر، ڈاکٹر اسجد سلمان، ڈاکٹر ارسلان رضا، ڈاکٹر سلیمان غفور، ڈاکٹر اسامہ بن سعید، ڈاکٹر احمد یار، ڈاکٹر کاشف سعید، ڈاکٹر حمید ارشد اور ڈاکٹر حسیب الرحمان شامل ہیں۔

یہ معاملہ پیشہ ورانہ ضابطہ اور طبی خدمات کے تسلسل سے متعلق ریگولیٹری کارروائی ہے۔ دستیاب رپورٹ میں ہر ڈاکٹر کے خلاف الگ الگ سزا یا پابندی کی مکمل نوعیت اور مدت کی تفصیل واضح طور پر بیان نہیں کی گئی، اس لیے خبر میں صرف کونسل کی جانب سے اعلان کردہ تادیبی کارروائی اور سماعت کے نتیجے تک محدود معلومات دی جا رہی ہیں۔

چونکہ معاملہ ریگولیٹری کارروائی سے متعلق ہے، اس لیے کسی بھی ممکنہ اپیل، نظرثانی یا بعد کی قانونی پیش رفت کو الگ مرحلہ سمجھا جائے گا۔ موجودہ مرحلے پر پی ایم ڈی سی کا بیان یہ ہے کہ متعلقہ افراد کو جواب اور وضاحت کا موقع دینے کے بعد ڈسپلنری کمیٹی نے کارروائی مکمل کی اور الزامات ثابت ہونے کی بنیاد پر اقدام کیا۔