کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کے بارے میں کہا ہے کہ اگر لیوی کے خاتمے کا فیصلہ مزید مؤخر کیا گیا تو بدھ کو ہونے والا چوتھا دور آخری ہوسکتا ہے۔ یہ موقف جماعت اسلامی کی جانب سے جاری بیان میں سامنے آیا، جبکہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات 7 ستمبر سے جاری ہیں۔
دونوں فریقوں نے ماہرین اور سیاسی رہنماؤں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی تھیں تاکہ پٹرولیم لیوی میں کمی یا خاتمے اور عوام کو ایندھن کی قیمتوں میں ریلیف دینے سے متعلق تجاویز پر بات کی جاسکے۔ تین ادوار مکمل ہونے کے بعد چوتھا دور 16 ستمبر کی شام اسلام آباد کے وفاقی سیکریٹریٹ میں طے کیا گیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے ایندھن ریلیف منصوبے کو مسترد کیا اور مطالبہ کیا کہ عارضی ریلیف اسکیموں کے بجائے پٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔ جماعت اسلامی کے بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر حکومت فیصلہ مؤخر کرتی رہی تو مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ انہوں نے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کے پروگرام کو بھی برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔
جماعت اسلامی کے مطابق مذاکرات میں اس کا وفد لیاقت بلوچ کی قیادت میں شریک ہوگا، جبکہ حکومتی ٹیم کی قیادت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کریں گے۔ حکومتی وفد میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی بھی شامل ہوں گے۔
حافظ نعیم نے حکومت کے ریلیف پیکیج کی مقدار اور طریقہ کار پر بھی تنقید کی۔ پارٹی بیان میں ان سے منسوب اعداد کے مطابق حکومت پٹرولیم لیوی سے سالانہ 1,567 ارب روپے جمع کرتی ہے، جبکہ اعلان کردہ عوامی ریلیف اس کے مقابلے میں محدود ہے۔ یہ اعداد اور اعتراض جماعت اسلامی کا موقف ہیں؛ حکومت کی جانب سے مذاکراتی دور کے حتمی نتائج اس خبر کے وقت سامنے نہیں آئے تھے۔
جماعت اسلامی 16 اگست سے پٹرولیم لیوی اور آزاد پاور پروڈیوسرز کے معاہدوں کے خلاف لاہور، پشاور، کراچی اور دیگر شہروں میں احتجاج اور دھرنے کرتی رہی ہے۔ پارٹی نے کراچی کے بعد لاہور، مردان اور پشاور میں بھی اجتماعات اور ریلیوں کا اعلان کیا ہے۔ مذاکرات کے جاری رہنے یا ختم ہونے کا انحصار چوتھے دور میں فریقین کے درمیان ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔

