اسلام آباد: اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری پولیس نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) سے ایک نومولود کے مبینہ طور پر لے جائے جانے کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے بچے کو بحفاظت بازیاب کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران تین خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے اور واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق پولیس کو پمز سے نومولود کی گمشدگی یا مبینہ اغوا کی اطلاع موصول ہوئی تھی، جس کے بعد متعلقہ ٹیموں نے فوری تلاش اور تفتیشی کارروائی شروع کی۔ پولیس نے دستیاب معلومات کی بنیاد پر مشتبہ افراد تک رسائی حاصل کی اور بچے کو بحفاظت تحویل میں لے لیا۔
حکام نے بتایا کہ زیر حراست تین خواتین سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ نومولود کو اسپتال سے کس طریقے سے باہر لے جایا گیا، واقعے میں کون کون ملوث تھا اور آیا اس میں کسی منظم گروہ یا اسپتال کے اندر موجود کسی فرد کی معاونت شامل تھی یا نہیں۔ ابتدائی مرحلے میں پولیس نے کسی حتمی ذمہ داری کا تعین نہیں کیا، اس لیے زیر حراست افراد کے کردار سے متعلق نتیجہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
بچے کی بحفاظت بازیابی کے بعد پولیس نے اسے متعلقہ قانونی اور طبی تقاضوں کے مطابق خاندان کے حوالے کرنے کے اقدامات کیے۔ واقعے نے بڑے سرکاری اسپتالوں میں نومولود بچوں کی حفاظت، داخلی و خارجی نگرانی اور وارڈز تک رسائی کے نظام پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
پولیس کی جانب سے مقدمے اور تفتیش سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے پر واقعے کی مکمل ترتیب واضح ہونے کی توقع ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ نومولود محفوظ حالت میں بازیاب ہو چکا ہے اور تین خواتین پولیس کی تحویل میں ہیں۔ کسی بھی زیر تفتیش فرد کو عدالت میں جرم ثابت ہونے تک مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ پولیس شواہد اور بیانات کی بنیاد پر قانونی کارروائی آگے بڑھا رہی ہے۔

