اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے بڑے سرکاری ہسپتال پولی کلینک میں آگ سے بچاؤ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات میں سنگین خامیوں کی نشاندہی ہوئی ہے، جس کے بعد کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے موجودہ صورتحال کو ’’ہیزرڈ الرٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو فائر اور لائف سیفٹی کے تمام ضروری تقاضے فوری پورے کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سی ڈی اے نے 27 اگست 2026 کو پولی کلینک ہسپتال کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا تھا۔ آڈٹ میں 46 مختلف حفاظتی تقاضوں پر عمل درآمد کی ضرورت سامنے آئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ فائر سیفٹی آڈٹس اور متعلقہ خط و کتابت میں دی گئی بعض سفارشات پر مکمل عمل نہیں کیا گیا۔

آڈٹ کے مطابق ہسپتال میں ہوز ریلز، ویٹ رائزرز اور یارڈ ہائیڈرنٹس موجود نہیں، جبکہ عمارت میں خودکار اسپرنکلر سسٹم، فائر الارم اور خودکار دھواں و آگ شناخت کرنے کا نظام بھی دستیاب نہیں پایا گیا۔ رپورٹ میں فائر پمپ سیٹ اور آگ بجھانے کے لیے مخصوص زیرِ زمین پانی کے ذخیرے کی عدم موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی۔

سی ڈی اے نے کہا کہ آگ لگنے کی صورت میں فائر انجنوں کی رسائی کے انتظامات ناکافی ہیں اور عمارت کے مختلف حصوں میں مناسب ایمرجنسی ایگزٹ روٹس کی کمی ہے۔ محفوظ انخلا کے طریقہ کار میں مزید بہتری کی ضرورت بھی بیان کی گئی۔ آڈٹ میں بجلی کی وائرنگ کی حالت کو فائر سیفٹی کے نقطۂ نظر سے انتہائی خراب قرار دیا گیا اور اسے ہنگامی صورتحال میں خطرے کا باعث بننے والا عنصر بتایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں فائر کنٹرول روم نہیں، جبکہ ایمرجنسی لائٹنگ اور اخراج کی نشان دہی کرنے والے سائن بھی مناسب تعداد میں نصب نہیں۔ جنریٹر اور ٹرانسفارمر رومز کے حفاظتی انتظامات، فائر ڈورز اور مختلف حصوں کے درمیان آگ کے پھیلاؤ کو روکنے والی کمپارٹمنٹیشن بھی ناکافی پائی گئی۔

سی ڈی اے نے پولی کلینک انتظامیہ کو آکسیجن اور دیگر گیسوں کے محفوظ استعمال کے انتظامات بہتر بنانے، جامع ایمرجنسی انخلا منصوبہ اور معیاری طریقہ کار تیار کرنے، فائر وارڈنز مقرر کرنے اور عملے کو باقاعدہ فائر سیفٹی و ایمرجنسی رسپانس تربیت دینے کی ہدایت کی ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ تازہ آڈٹ کی خامیوں کے ساتھ سابقہ آڈٹس کی ہدایات پر بھی مکمل عمل کیا جائے۔