کوئٹہ: بلوچستان کے مستونگ، پشین اور قلعہ عبداللہ اضلاع میں دو الگ انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران حکام کے مطابق نو دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں ایک کالعدم تنظیم کا اہم کمانڈر بھی شامل تھا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مستونگ میں سکیورٹی فورسز نے ایک گاڑی کو کواڈ کاپٹر کے ذریعے نشانہ بنایا، جس میں کمانڈر نقیب سمیت تین دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ کارروائی میں گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

دوسری کارروائی پشین اور قلعہ عبداللہ میں بلوچستان کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ طور پر کی۔ سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق اس آپریشن میں ایک کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے چھ دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی فائرنگ کے تبادلے میں سی ٹی ڈی کے چار اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمی اہلکاروں اور ہلاک افراد کی لاشوں کو کوئٹہ سول ہسپتال منتقل کیا گیا۔

حکام کے مطابق کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر پشین کے کلی سلطان، ازہرم، دینار اور گیلو سمیت مختلف شناخت شدہ مقامات پر کی گئی۔ رپورٹ میں پانچ افراد کی گرفتاری کی اطلاعات کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم خبر فائل ہونے تک حکام نے ان گرفتاریوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی تھی۔ اسی لیے گرفتاریوں کی تعداد کو حتمی نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حکام نے اسلحہ اور دیگر مواد برآمد ہونے کی اطلاع بھی دی اور کہا کہ مبینہ نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور ممکنہ منصوبہ بندی سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔

مشترکہ آپریشن کی قیادت ژوب رینج کے ڈی آئی جی، سی ٹی ڈی کمانڈر اور پشین کے ایس ایس پی نے کی۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کارروائیوں پر سکیورٹی اداروں کی تعریف کی اور انہیں دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم کا مظہر قرار دیا۔ بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران متعدد سکیورٹی کارروائیاں ہوئی ہیں؛ تاہم ہر واقعے کے حقائق، ہلاکتوں اور گرفتاریوں کی تفصیلات متعلقہ سرکاری بیانات اور بعد کی تحقیقات سے الگ الگ طے ہوتی ہیں۔ اس واقعے میں نو ہلاکتوں کی تعداد حکام کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے، جبکہ مبینہ گرفتار افراد سے متعلق تصدیق خبر کی اشاعت تک زیرِ انتظار تھی۔