اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نرسری آتشزدگی کی انکوائری رپورٹ میں تجویز کیے گئے قلیل مدتی اقدامات کو آئندہ تین ماہ کے اندر نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے بدھ کو پمز کی بہتری کے ایکشن پلان سے متعلق اجلاس کی صدارت کی، جس میں انکوائری رپورٹ اور وزارتِ قومی صحت کی جانب سے کیے گئے کارکردگی آڈٹ کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق انہوں نے ہسپتال کو بہتر بنانے اور اسے بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے پر زور دیا۔

پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی نرسری میں 26 اگست کو لگنے والی آگ میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد فائر سیفٹی، انتظامی ذمہ داری اور ہنگامی ردعمل سے متعلق سوالات اٹھے اور تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ آگ کی ممکنہ وجہ مقامی سطح پر برقی خرابی اور غیر معمولی حرارت تھی، تاہم رپورٹ نے اس سانحے کے پھیلاؤ کے تناظر میں انتظامی اور ادارہ جاتی ناکامیوں کی بھی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں سامنے آنے والے خطرات اور انتباہات کو مکمل، وقت مقررہ کے ساتھ اور آزادانہ تصدیق پر مبنی اصلاحی پروگرام میں تبدیل نہیں کیا گیا تھا۔

اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پمز میں مفت ادویات اور طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کو بھی ایکشن پلان کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے ہسپتال کے فائر سیفٹی نظام کے لیے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر سے معاونت اور سفارشات لینے کی ہدایت کی، جبکہ پیشہ ورانہ ساکھ رکھنے والے افراد کی تعیناتی اور طویل مدتی سفارشات کی بنیاد پر جامع منصوبہ تیار کرنے پر بھی زور دیا۔

وزیراعظم نے پولی کلینک ہسپتال کا آڈٹ کرانے، بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور ادارے کی تنظیمِ نو کا منصوبہ تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے کہا کہ اسلام آباد کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ متعلقہ ادارے سرکاری و نجی دفاتر اور عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹ بھی کریں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پمز کے کارکردگی آڈٹ میں جانچے گئے اشاریوں کے مقابلے میں تعمیل کی شرح 39.7 فیصد رہی، جبکہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں 37 فوری اقدامات پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔