کراچی: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کراچی کے ماہرین نے سندھ میں کتے کے کاٹنے اور ریبیز کے بڑھتے کیسز پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 2025 میں صوبے میں تقریباً 2 لاکھ 85 ہزار ڈاگ بائٹ کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مزید 83 ہزار کیسز سامنے آئے۔ پی ایم اے کے مطابق رواں سال اب تک بچوں سمیت 21 افراد ریبیز سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
پی ایم اے کے سینئر نمائندے ڈاکٹر مرزا علی اظہر نے بریفنگ میں کہا کہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے آوارہ کتوں کو پکڑنے، الگ رکھنے، ویکسین لگانے اور نیوٹر کرنے کی منظم پالیسی ضروری ہے۔ ان کے مطابق کئی برس سے مؤثر اور مسلسل نظام نہ بننے کے باعث ڈاگ بائٹ کا مسئلہ سنگین عوامی صحت چیلنج بن چکا ہے۔ ماہرین نے صوبائی حکومت سے فوری اور قابل عمل حکمت عملی کا مطالبہ کیا۔
ریبیز ایک جان لیوا وائرل بیماری ہے جو متاثرہ جانور کے کاٹنے یا لعاب کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہے۔ طبی ماہرین کا زور اس بات پر ہے کہ کتے کے کاٹنے کے بعد زخم کو فوری طور پر اچھی طرح دھونا اور جلد از جلد مستند طبی مرکز سے پوسٹ ایکسپوژر علاج حاصل کرنا ضروری ہے۔ علامات ظاہر ہونے کے بعد ریبیز تقریباً ہمیشہ مہلک ہوتی ہے، اس لیے بروقت ویکسین اور جہاں ضروری ہو امیونوگلوبیولن بنیادی حفاظتی اقدامات ہیں۔
بریفنگ میں بعض ماہرین نے آوارہ کتوں کی آبادی قابو کرنے کے لیے ’ہیومین کلنگ‘ کی تجویز بھی دی، تاہم اس معاملے پر جانوروں کی فلاح، صحت عامہ اور قابل عمل آبادی کنٹرول کے طریقوں کے درمیان بحث موجود ہے۔ پی ایم اے کے نمائندوں نے خود بھی پکڑنے، ویکسینیشن، نیوٹرنگ اور آبادی کے منظم کنٹرول کو پالیسی کے اہم اجزا قرار دیا۔ اس لیے کسی ایک طریقے کو مکمل حل سمجھنے کے بجائے مسلسل نگرانی اور مؤثر نفاذ ضروری ہے۔
ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سندھ میں آوارہ کتوں کی درست مجموعی تعداد اور ویکسینیشن کوریج سے متعلق قابل اعتماد ڈیٹا محدود ہے۔ اس خلا کی وجہ سے وسائل کی منصوبہ بندی اور علاقوں کے لحاظ سے خطرے کی پیمائش مشکل ہوتی ہے۔ صوبائی حکومت اور بلدیاتی اداروں کے لیے چیلنج یہ ہے کہ جانوروں کی آبادی کے انتظام، اینٹی ریبیز ویکسین کی دستیابی، ہسپتالوں میں فوری علاج اور عوامی آگاہی کو ایک مربوط پروگرام میں شامل کیا جائے۔
