اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک افغان ڈاکٹر کو پاکستان میں اپنی پوسٹ گریجویٹ طبی تربیت جاری رکھنے کی اجازت دی ہے، جس کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ متعلقہ میڈیکل ادارے نے ان کی تربیت میں باضابطہ توسیع کر دی ہے۔ کیس میں تعلیمی تربیت، امیگریشن حیثیت اور ادارہ جاتی اجازت کے باہمی تعلق پر غور کیا گیا۔
عدالت کے سامنے وکیل نے بتایا کہ قائداعظم میڈیکل کالج سے متعلق مجاز اتھارٹی نے شعبے کے سربراہ کی سفارش پر ڈاکٹر عماد الدین کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ 28 فروری 2026 سے 27 فروری 2027 تک بڑھانے کی منظوری دی ہے۔ اس ادارہ جاتی فیصلے نے ڈاکٹر کے جاری تربیتی پروگرام کے بارے میں ایک اہم عملی بنیاد فراہم کی۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں زیر تعلیم افغان طلبہ اور تربیت حاصل کرنے والے طبی افراد کی رہائش اور تعلیمی حیثیت سے متعلق مختلف عدالتوں میں درخواستیں دائر ہوئی ہیں۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے الگ مقدمات میں افغان میڈیکل طلبہ کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ غیر ملکی طلبہ کو پاکستان میں رہنے یا تعلیم جاری رکھنے کا مطلق حق حاصل نہیں اور ان کی حیثیت قابل اطلاق امیگریشن و دیگر قوانین سے مشروط ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے موجود ڈاکٹر کا معاملہ مخصوص حقائق اور متعلقہ ادارے کی منظور شدہ تربیتی توسیع سے جڑا تھا۔ اس لیے اس فیصلے کو تمام افغان طلبہ یا غیر ملکی زیر تربیت ڈاکٹروں کے لیے عمومی اور غیر مشروط اجازت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہر فرد کی ویزا حیثیت، ادارہ جاتی داخلہ یا تربیتی منظوری اور متعلقہ حکومتی قواعد الگ طور پر لاگو ہو سکتے ہیں۔
طبی پوسٹ گریجویٹ تربیت عموماً مقررہ مدت، ہسپتال کی عملی تربیت اور متعلقہ کالج یا ریگولیٹری تقاضوں سے مشروط ہوتی ہے۔ کسی تربیت میں تعطل ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ اہلیت کے مراحل کو متاثر کر سکتا ہے، اسی لیے عدالتوں کے سامنے ایسے مقدمات میں تعلیمی تسلسل اور قانونی امیگریشن تقاضوں دونوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ موجودہ کیس میں ادارے کی 27 فروری 2027 تک توسیع اس تربیتی مدت کے تسلسل کے لیے بنیادی دستاویزی عنصر بنی۔
