اسلام آباد: وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم کو 16 ستمبر کی رات 11 بج کر 59 منٹ پر ملک بھر میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے دفتر کے مطابق اسلام آباد میں پہلے سے فعال اسکیم کے انتظامی جائزے کے بعد ملک گیر رجسٹریشن اور فیول ٹوکن کے استعمال کے لیے متعلقہ اداروں کو حتمی تیاریوں کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

اسکیم کے تحت اہل موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی رکشہ اور 800 سی سی تک انجن والی کاروں کے صارفین کو پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر کی ہدفی رعایت دی جائے گی۔ حکومت نے اسے عمومی پٹرولیم قیمت میں کمی کے بجائے مخصوص کم آمدنی یا چھوٹی گاڑی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے مالی ریلیف کے طور پر ترتیب دیا ہے۔ رجسٹریشن کے لیے ملک بھر میں 9771 پر ایس ایم ایس کا طریقہ کھول دیا گیا ہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے انتظامی اجلاس میں ہدایت کی کہ رجسٹریشن کا طریقہ سادہ اور قابل رسائی رکھا جائے تاکہ اہل افراد غیر ضروری پیچیدگی کے بغیر اسکیم میں شامل ہو سکیں۔ منتخب نمائندوں اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے رضاکاروں کو عوامی آگاہی اور رجسٹریشن میں معاونت کے لیے استعمال کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ صوبوں سے کہا گیا ہے کہ ضلعی سطح پر معلومات کی فراہمی اور سہولت کاری مکمل کریں۔

حکومت کے مطابق فیول ٹوکن کی ریڈیمپشن 16 اور 17 ستمبر کی درمیانی رات سے شروع ہوگی۔ متعلقہ پٹرول پمپس کو ادائیگیوں کے نظام کے بارے میں بھی انتظامات کیے گئے ہیں اور اسٹیٹ بینک کے ذریعے اسٹیشنوں کو واجب الادا رقوم 24 گھنٹوں میں ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ریلیف کی رقم کا مالی بوجھ پٹرول پمپ مالکان پر طویل مدت تک نہ رہے اور صارفین کو موقع پر رعایت مل سکے۔

اسکیم کا ملک گیر نفاذ ایسے وقت ہو رہا ہے جب پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ 16 ستمبر کے لیے پیٹرول کی عمومی قیمت 384.34 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ ہدفی سبسڈی کے عملی نتائج کا انحصار رجسٹریشن کی درست تصدیق، پٹرول پمپس پر ٹوکن نظام کی کارکردگی، ادائیگیوں کی بروقت تکمیل اور غلط یا دوہری کلیمز کی روک تھام پر ہوگا۔ اہل صارفین کے لیے مقدار اور ماہانہ حدیں حکومتی قواعد کے مطابق لاگو رہیں گی۔