اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرس رضیہ نورین کو تمغہ شجاعت دینے کی منظوری دی ہے۔ ایوان صدر کے مطابق رضیہ نورین نے پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی نرسری میں 26 اگست کو لگنے والی مہلک آگ کے دوران ایک نومولود کو بچایا تھا۔ اس سانحے میں 14 نومولود جان سے گئے تھے اور ہسپتال میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور انتظامی ذمہ داریوں سے متعلق سنگین سوالات اٹھے تھے۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں رضیہ نورین کو آگ بڑھنے کے دوران نرسری میں داخل ہوتے اور چند لمحوں بعد ایک بچے کو اٹھائے باہر آتے دیکھا گیا۔ فوٹیج کے مطابق انہوں نے دوبارہ اندر جانے کی کوشش بھی کی، تاہم اس وقت تک آگ مزید پھیل چکی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے رواں ماہ کے آغاز میں ان کی بہادری اور فرض شناسی کے اعتراف میں انہیں ایک کروڑ روپے کا چیک بھی دیا تھا۔ رضیہ نورین نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری ادا کی کیونکہ اس وقت بچے ان کے سپرد تھے۔
آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ آگ کا ممکنہ سبب مقامی نوعیت کی برقی خرابی تھی، تاہم کمیٹی نے ہسپتال انتظامیہ کی نظامی اور ادارہ جاتی ناکامیوں کی بھی نشاندہی کی جنہوں نے ہنگامی صورتحال کو بڑے سانحے میں تبدیل کیا۔ رپورٹ میں سی سی ٹی وی شواہد کی بنیاد پر اس عمومی الزام کو مسترد کیا گیا کہ فرنٹ لائن عملہ نومولود بچوں کو چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا۔ اس معاملے میں آٹھ اہلکاروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم بھی دیا گیا تھا۔
ایوان صدر کے اعلان میں یہ بھی بتایا گیا کہ صدر نے متعدد قانون سازی کے مسودوں کی منظوری دی، جن میں لوک ورثہ سے متعلق ترمیمی بل، معیاری وقت کی تشریح سے متعلق ترمیمی بل اور جہازوں میں خطرناک مواد کے انتظام سے متعلق قانون سازی شامل ہے۔ تاہم بدھ کے اعلان کا نمایاں پہلو پمز سانحے کے دوران جان بچانے والی نرس کے لیے قومی اعزاز کی منظوری رہی۔

