اسلام آباد: سینیٹ کی متعلقہ ذیلی کمیٹی نے میڈیکل و ڈینٹل کالج داخلہ ٹیسٹ (MDCAT) کی پالیسی میں تبدیلیوں کی سفارش کرتے ہوئے داخلہ میرٹ میں ٹیسٹ کی 50 فیصد ویٹیج اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے سالانہ میڈیکل نشستوں کی 22,300 کی حد پر دوبارہ غور کرنے کا کہا ہے۔ کمیٹی نے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ زیادہ منظم اور بامعنی مشاورت کی ضرورت بھی اجاگر کی۔

کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 22,300 سالانہ میڈیکل نشستوں کی موجودہ حد پاکستان کی صحت کی ضروریات کے لیے ناکافی ہو سکتی ہے اور مستقبل میں طبی افرادی قوت کی کمی میں کردار ڈال سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 93 ہزار ایسے طلبہ جو MDCAT میں اہل قرار پائے، میڈیکل کالجوں میں داخلہ حاصل نہیں کر سکے، جس سے داخلہ صلاحیت اور اہل امیدواروں کی تعداد کے درمیان بڑا فرق ظاہر ہوتا ہے۔

ذیلی کمیٹی نے پالیسی سازی میں نجی میڈیکل شعبے کی نمائندگی اور مشاورت کے موجودہ طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا۔ اس نے کہا کہ بنیادی طور پر ای میل کے ذریعے رائے لینے کو کافی نہیں سمجھا جا سکتا اور پالیسی تبدیلیوں سے پہلے سرکاری و نجی میڈیکل کالجوں، طلبہ، ریگولیٹرز اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ باقاعدہ مشاورت ہونی چاہیے۔

رپورٹ میں میڈیکل نشستوں کی حد بڑھانے کے امکان پر غور کی سفارش کی گئی اور یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ بڑے پیمانے پر نشستیں بڑھنے سے بعض اداروں میں فی طالب علم لاگت کم کرنے کے لیے economies of scale پیدا ہو سکتی ہیں۔ ساتھ ہی MDCAT کی موجودہ 50 فیصد ویٹیج کو بھی rationalise کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ داخلہ نظام میں تعلیمی ریکارڈ اور ٹیسٹ کے درمیان مناسب توازن کا جائزہ لیا جا سکے۔

یہ سفارشات فوری طور پر داخلہ قواعد میں تبدیلی نہیں کرتیں۔ PMDC اور متعلقہ حکام کو قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کے اندر ان تجاویز کا جائزہ لینا ہوگا۔ نشستوں میں اضافہ بھی صرف تعداد بڑھانے کا معاملہ نہیں؛ اس کے لیے تدریسی فیکلٹی، ہسپتالوں میں کلینیکل تربیت، لیبارٹری سہولیات اور معیار کی نگرانی ضروری ہے۔ اسی طرح MDCAT ویٹیج میں تبدیلی کے لیے مختلف تعلیمی بورڈز کے نتائج کے قابل تقابل ہونے اور میرٹ کے منصفانہ تعین جیسے مسائل بھی حل کرنا ہوں گے۔