کراچی: سندھ حکومت نے صوبے بھر میں نئے اسلحہ لائسنس اور نئے آرمز ڈیلرشپ لائسنس جاری کرنے پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ کے ترجمان کے مطابق پابندی اگلے احکامات تک نافذ رہے گی اور تمام متعلقہ لائسنسنگ اتھارٹیز کو اس فیصلے پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکومتی بیان کے مطابق پابندی کے دوران کوئی بھی لائسنسنگ اتھارٹی معمول کے طریقہ کار کے تحت نیا اسلحہ لائسنس جاری نہیں کر سکے گی۔ اسی طرح اسلحہ فروخت کرنے کے لیے نئی ڈیلرشپ کے لائسنس کا اجرا بھی مکمل طور پر معطل رہے گا۔ حکومت نے اس اقدام کو صوبے میں آتشیں اسلحے کی ریگولیشن اور کنٹرول مضبوط بنانے کی پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ بعض غیر معمولی یا خصوصی معاملات میں استثنا ممکن ہوگا، لیکن اس کے لیے متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق مجاز اتھارٹی کی پیشگی منظوری ضروری ہوگی۔ ایسے کیسز میں صوبائی وزیر داخلہ یا وزیراعلیٰ سندھ کی اجازت، جیسا کہ قواعد میں لاگو ہو، حاصل کرنا ہوگی۔ اس طرح عمومی پابندی برقرار رکھتے ہوئے محدود استثنائی راستہ رکھا گیا ہے۔
فیصلے کا اطلاق نئے لائسنسوں کے اجرا پر ہے۔ دستیاب سرکاری بیان میں پہلے سے جاری لائسنسوں کی عمومی منسوخی کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے موجودہ لائسنس رکھنے والوں کے بارے میں اس حکم کو نئی پابندی سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔ لائسنسنگ حکام کو نئی درخواستوں پر کارروائی کے دوران تازہ ہدایات کی پابندی کرنا ہوگی۔
سندھ میں اسلحے کی دستیابی، غیر قانونی ہتھیاروں اور جرائم میں آتشیں اسلحے کے استعمال سے متعلق مسائل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صوبائی حکومت کے لیے اہم چیلنج رہے ہیں۔ نئی پابندی کے عملی اثرات کا دارومدار اس کے نفاذ، استثنائی منظوریوں کی نگرانی اور غیر قانونی اسلحے کے خلاف الگ قانون نافذ کرنے والی کارروائیوں پر ہوگا۔ حکومت نے فی الحال پابندی کے خاتمے کی کوئی مقررہ تاریخ نہیں دی اور اسے اگلے احکامات تک نافذ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

