اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرس رضیہ نورین کو تمغہ شجاعت دینے کی منظوری دے دی ہے۔ رضیہ نورین نے اگست میں پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ کے دوران ایک نومولود کو محفوظ مقام تک پہنچایا تھا۔ اس آتشزدگی میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے تھے۔

ڈان کے مطابق ایوان صدر نے بدھ کو اعزاز کی منظوری کا اعلان کیا۔ 26 اگست کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں رضیہ نورین کو نرسری میں داخل ہوتے اور چند لمحوں بعد ایک بچے کو اٹھا کر باہر آتے دیکھا گیا تھا۔ فوٹیج کے مطابق انہوں نے دوبارہ اندر جانے کی کوشش بھی کی، تاہم اس وقت تک آگ تیزی سے پھیل چکی تھی۔

اس واقعے کے بعد ہسپتال میں آگ سے تحفظ کے انتظامات، ہنگامی ردعمل اور انتظامی ذمہ داری سے متعلق سوالات اٹھے تھے۔ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا جبکہ آٹھ اہلکاروں کے خلاف فوجداری کارروائی کی ہدایت بھی دی گئی تھی۔ بدھ کو سامنے آنے والی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ آگ کا ممکنہ سبب ایک مقامی نوعیت کی برقی خرابی تھی، تاہم کمیٹی نے انتظامی اور ادارہ جاتی ناکامیوں کو بھی اس سانحے کی شدت بڑھنے کا اہم سبب قرار دیا۔

تحقیقاتی رپورٹ نے دستیاب سی سی ٹی وی شواہد کی بنیاد پر اس عمومی الزام کو مسترد کیا کہ فرنٹ لائن عملہ نومولود بچوں کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ کمیٹی کے مطابق صورتحال غیر معمولی طور پر تیزی سے بگڑی۔ یہ نتیجہ انتظامی ذمہ داری سے متعلق دیگر نکات کو ختم نہیں کرتا، کیونکہ رپورٹ نے ہسپتال کی سطح پر نظامی خامیوں کی الگ نشاندہی کی ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے بھی رضیہ نورین کی بہادری اور فرض شناسی کے اعتراف میں انہیں ایک کروڑ روپے کا چیک دیا تھا۔ رضیہ نورین نے اس موقع پر کہا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کر رہی تھیں کیونکہ اس وقت بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری طبی عملے کے کندھوں پر تھی۔

صدر کی جانب سے تمغہ شجاعت کی منظوری انفرادی بہادری کے سرکاری اعتراف کی ایک الگ پیش رفت ہے، جبکہ آتشزدگی کی وجوہات اور ادارہ جاتی ذمہ داری کی تحقیقات الگ قانونی و انتظامی عمل ہیں۔ رپورٹ میں جن اہلکاروں یا انتظامی خامیوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان کے بارے میں حتمی فوجداری ذمہ داری متعلقہ تفتیش اور عدالتی عمل کے بعد ہی طے ہوگی۔

ایوان صدر نے اسی اعلان میں چند قانون سازی سے متعلق بلوں کی منظوری کا بھی ذکر کیا، لیکن رضیہ نورین کے لیے تمغہ شجاعت کی منظوری پمز آتشزدگی کے بعد سامنے آنے والی نمایاں سرکاری پیش رفت ہے۔