کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع خضدار میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور قبائلی شخصیت میر شفیق الرحمن مینگل کے کیمپ پر مسلح حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ بدھ 16 ستمبر کو تحصیل وڈھ کے علاقے ارنجی میں کوئٹہ کراچی شاہراہ کے قریب پیش آیا۔

ارنجی تھانے کے ایس ایچ او عبدالفاتح کے مطابق مسلح افراد موٹر سائیکلوں پر علاقے میں پہنچے اور شفیق مینگل کے کیمپ کی سکیورٹی چیک پوسٹ پر فائرنگ کردی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے ابتدا میں چار سکیورٹی گارڈز کو قتل کیا اور ایک پولیس اہلکار کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ بعد میں مذکورہ اہلکار کو بھی قتل کردیا گیا اور اس کی لاش راستے میں پھینک دی گئی۔

پولیس نے ہلاک ہونے والوں کی شناخت عبدالحئی، نعمت اللہ، یحییٰ، نصیر احمد اور کانسٹیبل نور محمد کے نام سے کی ہے۔ واقعے میں قریبی اسپتال کا ملازم عبیداللہ گولی لگنے سے زخمی ہوا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوع پر پہنچ کر لاشوں اور زخمی شخص کو ضلعی اسپتال منتقل کیا۔

حکام کے مطابق میر شفیق الرحمن مینگل حملے کے وقت کیمپ میں موجود نہیں تھے۔ واقعے کے بعد علاقے میں حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ فوری طور پر کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، اس لیے حملے کے محرکات یا ذمہ داروں کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا ہے۔

یہ واقعہ خضدار میں شفیق مینگل سے منسلک مقام پر حالیہ مہینوں میں پیش آنے والا ایک اور سنگین حملہ ہے۔ جولائی میں ان کی رہائش گاہ پر خودکش حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 17 افراد ہلاک اور دو درجن سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ تازہ واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں کی توجہ ارنجی اور وڈھ کے گردونواح میں حملہ آوروں کی شناخت، ان کے ممکنہ راستوں اور واقعے کے پس منظر کی تحقیقات پر مرکوز ہے۔

پولیس کی جانب سے فراہم کردہ ابتدائی معلومات کو تفتیشی مرحلے کی تفصیلات سمجھا جا رہا ہے۔ کسی گرفتاری یا حملہ آور گروہ کی شناخت کی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔