اسلام آباد: نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (PKCERT) اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے سرکاری اداروں کے لیے بنیادی سائبر سکیورٹی معیارات پر مشتمل نیشنل سائبر سکیورٹی ہینڈ بک 2026-27 جاری کی ہے، جس میں سرکاری ملازمین کو حساس یا سرکاری معلومات کے تحفظ کے لیے ذاتی ای میل اکاؤنٹس، غیر منظور شدہ آلات، غیر مجاز کلاؤڈ سروسز اور عوامی مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز کے استعمال سے متعلق واضح احتیاطی اصول دیے گئے ہیں۔
ہینڈ بک کے مطابق سائبر سکیورٹی صرف آئی ٹی شعبے کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر صارف سرکاری معلومات کی رازداری، سالمیت اور دستیابی پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے متعلق حصے میں اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ خفیہ سرکاری دستاویزات، سرکاری ای میلز، سورس کوڈ یا شہریوں کی ذاتی شناختی معلومات عوامی اے آئی پلیٹ فارمز میں داخل نہ کی جائیں۔ محکموں کی جانب سے منظور شدہ اے آئی ٹولز استعمال کرنے اور پرامپٹس یا اپ لوڈ کی جانے والی فائلوں سے نام اور حساس معلومات نکالنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اے آئی سے تیار شدہ نتائج کو درستگی اور ممکنہ سکیورٹی اثرات کے حوالے سے انسانی جانچ سے گزارا جائے۔ غیر منظور شدہ اے آئی ایکسٹینشنز یا پلگ انز نصب کرنے اور انتظامی اسناد، اے پی آئی کیز یا پاس ورڈز اے آئی ٹولز کے ساتھ شیئر کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
ای میل سکیورٹی کے تحت سرکاری خط و کتابت اور محکمانہ کام کے لیے سرکاری ای میل اکاؤنٹ استعمال کرنے کی ہدایت ہے۔ ذاتی جی میل یا یاہو اکاؤنٹس کا استعمال صرف غیر معمولی صورت میں محکمانہ اجازت کے ساتھ کیا جاسکتا ہے، جبکہ سرکاری ای میلز ذاتی ان باکس میں فارورڈ نہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اسی طرح سرکاری ای میل پتے شاپنگ، گیمنگ یا سوشل میڈیا ویب سائٹس پر رجسٹریشن کے لیے استعمال نہ کرنے کا کہا گیا ہے۔
آلات اور کلاؤڈ کے حوالے سے ہینڈ بک سرکاری کام کے لیے منظور شدہ سرکاری ڈیوائسز اور مجاز کلاؤڈ سروسز کے استعمال پر زور دیتی ہے۔ اگر عملی ضرورت کے تحت ذاتی ڈیوائس ناگزیر ہو تو پیشگی محکمانہ اجازت اور مقررہ سکیورٹی معیار پورا کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ہینڈ بک نے سائبر واقعات کی فوری رپورٹنگ کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ غیر مجاز رسائی کی کوشش، رینسم ویئر پیغام، مشکوک ای میل، فائلوں میں غیر معمولی حذف یا تبدیلی اور سسٹم کے غیر واضح رویے جیسے واقعات جلد رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سرکاری ڈیجیٹل نظام میں انسانی غلطی، غیر مجاز رسائی اور حساس معلومات کے اخراج کے خطرات کم کرنا ہے۔
