اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایکسیس ٹو فنانس پلان 2026-28 کے تحت زرعی شعبے اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کے لیے بینکاری قرضوں کو جون 2028 تک الگ الگ دو ٹریلین روپے تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے منصوبے کے جائزہ اجلاس میں بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ کسانوں، ایس ایم ایز اور کم و متوسط آمدنی والے گھرانوں کے لیے قرضوں تک رسائی آسان بنائی جائے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق اگست 2026 میں زرعی شعبے کو بینک قرضوں کا حجم 1.268 ٹریلین روپے تھا۔ حکومت اسے جون 2028 تک دو ٹریلین روپے تک لے جانا چاہتی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ زر خیز ایپ کے ذریعے قرضوں کے لیے 35,838 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں 7.35 ارب روپے کی فنانسنگ منظور ہوئی اور 1.96 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ وزیراعظم نے کسانوں کو موافق شرائط پر مالی وسائل کی بلا تعطل فراہمی کی ہدایت کی۔
ہاؤسنگ کے شعبے میں وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے تحت 147,504 درخواستیں موصول ہونے کی اطلاع دی گئی۔ سرکاری بریفنگ کے مطابق 53,127 درخواستیں منظور ہوئیں جن کی مجموعی مالیت 313.42 ارب روپے بنتی ہے، جبکہ 8,739 درخواست گزاروں کو 45.43 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ وزیراعظم نے صوبائی چیف سیکریٹریز کو ایسی جائیدادوں کا جامع سروے کرنے کی ہدایت کی جن کے خلاف بینک رہائشی قرض فراہم کر سکیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں رہن کی شرائط پوری کرنے والے پلاٹس کی شناخت کے لیے نظام تیار کیا جا رہا ہے اور اسلام آباد کو پائلٹ منصوبے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ بڑے ہاؤسنگ ڈویلپرز کو اسکیم میں شامل کرنے کے لیے بھی طریقہ کار وضع کرنے کی بات کی گئی۔
ایس ایم ای شعبے کو اگست تک بینک قرضوں کا حجم 1.067 ٹریلین روپے بتایا گیا، جسے جون 2028 تک دو ٹریلین روپے تک بڑھانے کا ہدف ہے۔ سمیڈا نے گزشتہ تین ماہ میں 1,096 چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو مالیاتی خواندگی کی تربیت دی۔ یہ تمام اعداد و اہداف وزیراعظم آفس کی اجلاس سے متعلق سرکاری بریفنگ پر مبنی ہیں؛ ان اہداف کا حصول آئندہ بینکاری پالیسی، قرض کی طلب، کریڈٹ رسک اور معاشی حالات پر منحصر ہوگا۔




