اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آٹوموٹیو انڈسٹری ڈیولپمنٹ پالیسی 2026-31 کے مسودے کی منظوری دے دی ہے، جس میں گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی برآمدات، مقامی پیداوار اور ویلیو ایڈیشن کو صنعتی مراعات کے ساتھ زیادہ براہ راست جوڑنے کی تجویز دی گئی ہے۔ نئی پالیسی سابقہ فریم ورک کی جگہ لے گی اور نیو انرجی وہیکل پالیسی 2025-30 کے ساتھ متوازی طور پر چلانے کی منصوبہ بندی ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق مجوزہ فریم ورک میں مقامی سی کے ڈی اسمبلی کے ذریعے پانچ سال میں مجموعی طور پر 17.7 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت اور گاڑیوں و آٹو پارٹس کی 4.586 ارب ڈالر تک برآمدات کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ اعداد پالیسی کے تخمینے ہیں، حتمی معاشی نتائج نہیں۔ ان اہداف کا حصول سرمایہ کاری، مقامی پرزہ سازی، برآمدی منڈیوں تک رسائی، گاڑیوں کی طلب اور پالیسی کے مستقل نفاذ پر منحصر ہوگا۔

پالیسی کے مسودے میں نئی انرجی گاڑیوں کے لیے نمایاں ٹیکس سہولتوں کی تجویز بھی شامل ہے۔ رپورٹس کے مطابق متعلقہ گاڑیوں، کٹس، پرزہ جات اور بعض خام مال پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز ہے، جبکہ مخصوص وفاقی ٹیکسوں میں چھوٹ بھی زیر غور ہے۔ وزیراعظم نے بیٹری الیکٹرک گاڑیوں، پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں کی درجہ بندی الگ رکھنے اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر و ہنرمند پاکستانیوں کے روزگار کو زیادہ اہمیت دینے کی ہدایت کی۔

روایتی گاڑیوں کے موجودہ اسمبلرز کے تحفظ کو فوری طور پر مکمل ختم نہیں کیا جا رہا۔ مجوزہ پالیسی میں ٹیرف اور کسٹمز ڈیوٹی میں مرحلہ وار تبدیلیاں رکھی گئی ہیں تاکہ مقامی صنعت کو منتقلی کے لیے وقت مل سکے۔ بعض رپورٹس کے مطابق پانچویں سال تک گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی 15 فیصد تک لانے کی تجویز بھی شامل ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ رپورٹ ہونے والی منظوری پالیسی کے مسودے یا اصولی فریم ورک سے متعلق ہے، نہ کہ تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد نافذ شدہ حتمی قانون۔ مسودے کو قانونی جانچ، متعلقہ اقتصادی اداروں اور ممکنہ طور پر آئی ایم ایف سے مشاورت سمیت مزید مراحل سے گزرنا ہے۔ اس لیے ٹیکس شرحوں اور مراعات کو حتمی سمجھنے سے پہلے سرکاری نوٹیفکیشن اور منظوری کے باقی مراحل دیکھنا ضروری ہوگا۔