وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی ان کے متعلقہ ماسٹر پلانز کے مطابق توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق یہ فیصلہ اسلام آباد میں ہوائی اڈوں کی توسیع اور مسافروں کی سہولیات سے متعلق اجلاس میں کیا گیا، جس میں وفاقی وزرا اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ توسیعی منصوبوں کے معیار پر سمجھوتا نہ کیا جائے اور کام بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے منصوبوں اور اصلاحات کی تھرڈ پارٹی توثیق یقینی بنانے اور مسافروں کے لیے خدمات بہتر کرنے کی غرض سے بین الاقوامی شہرت یافتہ اداروں کی خدمات حاصل کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں ایک بین الاقوامی فرم کی جانب سے بڑے ہوائی اڈوں پر سفری سہولیات کے معیار کے جائزے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

حکام نے بتایا کہ بڑے ایئرپورٹس پر خودکار بارڈر مینجمنٹ سسٹم، یعنی ای گیٹس، نصب کرنے پر کام جاری ہے۔ کراچی کو فضائی مال برداری کا مرکز بنانے کے لیے ایئر کارگو ولیج پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے مسافروں کی سہولت کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے ایئرپورٹس پر مختلف اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے، عملے کی تربیت اور خوراک و دیگر خدمات کے معیار میں بہتری پر زور دیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے کی توسیع مکمل ہو چکی ہے جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے مسافروں کی سہولت کے لیے عملہ اور کاؤنٹرز بڑھائے ہیں۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر میٹ اینڈ گریٹ سروس شروع کی گئی ہے اور بڑے ہوائی اڈوں پر پری ڈیپارچر ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ مسافروں کو بروقت رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق ملک کے مختلف ہوائی اڈوں کی اپ گریڈیشن پر سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترقیاتی کام بھی جاری ہیں۔ اجلاس میں حیدرآباد کے موجودہ ایوی ایشن ادارے کو بین الاقوامی معیار کی ایوی ایشن یونیورسٹی میں بہتر بنانے کے منصوبے کا ذکر بھی کیا گیا، جس پر فروری 2028 تک کام شروع کرنے کی اطلاع دی گئی۔ موجودہ منظوری منصوبوں کے انتظامی اور پالیسی مرحلے کی اہم پیش رفت ہے؛ حتمی لاگت، ہر مرحلے کی تکمیل اور عملی نتائج متعلقہ منصوبوں کی پیش رفت کے ساتھ واضح ہوں گے۔