الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے انتخابی عمل آگے بڑھانے کا حکم دیا ہے، جبکہ ایسے اضلاع کو فوری عمل سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے جہاں ہنگامی یا غیر معمولی سکیورٹی صورتحال درپیش ہے۔ ڈان کی 29 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق کمیشن نے صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کو انتخابی انتظامات میں تعاون کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ مقامی حکومتوں کے انتخاب آئینی اور قانونی ذمہ داری ہیں۔

یہ فیصلہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی اداروں کی مدت اور نئے انتخابات کے شیڈول سے متعلق جاری مشاورت کے بعد سامنے آیا۔ صوبے کے بعض علاقوں میں دہشت گردی اور سکیورٹی خدشات کے باعث حکومت اور انتخابی حکام کو پولنگ عملے، ووٹرز اور امیدواروں کی حفاظت کے لیے اضافی انتظامات درکار ہیں۔ اسی تناظر میں کمیشن نے ان اضلاع کے لیے لچک رکھی جہاں متعلقہ حکام ہنگامی صورتحال کی نشاندہی کریں گے۔ اس استثنا کا مطلب پورے صوبے میں انتخابات ملتوی کرنا نہیں بلکہ مخصوص متاثرہ علاقوں کے حالات کا الگ جائزہ لینا ہے۔

الیکشن کمیشن نے صوبائی انتظامیہ سے انتخابی فہرستوں، حلقہ بندیوں، پولنگ اسٹیشنوں اور سکیورٹی سمیت ضروری تیاریوں میں تعاون کا مطالبہ کیا۔ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں صوبائی حکومت، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کا کردار اہم ہوتا ہے، جبکہ انتخابی شیڈول اور قانونی نگرانی الیکشن کمیشن کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں حالیہ عرصے کے دوران سکیورٹی صورتحال یکساں نہیں رہی۔ بعض جنوبی اور سرحدی اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں نے معمول کی انتظامی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ اسی لیے کمیشن کا موجودہ حکم صوبہ بھر کے انتخابی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے ان علاقوں کے لیے حالات کے مطابق فیصلہ کرنے کی گنجائش رکھتا ہے جہاں پولنگ کے محفوظ انعقاد پر سنجیدہ سوالات موجود ہوں۔

حتمی انتخابی تاریخیں، مخصوص مستثنیٰ اضلاع اور ان علاقوں میں بعد کے انتظامات الیکشن کمیشن کے باضابطہ شیڈول اور متعلقہ احکامات سے واضح ہوں گے۔ موجودہ پیش رفت کو بلدیاتی انتخابات کے اصولی انعقاد کا حکم سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ ہر ضلع کے لیے ایک ہی تاریخ پر پولنگ کی قطعی تصدیق۔