اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وزیراعظم فیول ریلیف پروگرام کے تحت رجسٹرڈ مستحقین کو رعایتی ایندھن فراہم نہ کرنے والے پٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ انہوں نے پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مستحق شہریوں کو منظور شدہ سہولت کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک 15,519,282 شہری پروگرام میں رجسٹر ہو چکے ہیں۔ ان میں تقریباً 15.06 ملین موٹر سائیکل مالکان اور 449 ہزار ایسے گاڑی مالکان شامل ہیں جن کی گاڑیوں کے انجن کی گنجائش 800 سی سی تک ہے۔ حکام کے مطابق رجسٹریشن اور سبسڈی کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے بعد پروگرام میں شامل ہونے والے افراد کی تعداد بڑھی ہے۔
سرکاری بریفنگ کے مطابق 63,153,685 سبسڈی ٹوکن جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 59,445,347 استعمال ہوئے۔ چار نومبر 2026 تک اسکیم کے تحت مجموعی ادائیگیاں 28.6 ارب روپے تک پہنچ گئی تھیں۔ یہ اعداد پروگرام کے حجم اور روزمرہ ایندھن کے اخراجات میں رعایت حاصل کرنے والے شہریوں کی تعداد کو ظاہر کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کو سراہتے ہوئے اسے مستقبل کی عوامی فلاحی اسکیموں کے لیے قابل استعمال ماڈل قرار دیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پروگرام کی شفاف نگرانی کے لیے ڈیش بورڈ تیار کیا گیا ہے، جبکہ صارفین اور پٹرول پمپ آپریٹرز کی شکایات اور رہنمائی کے لیے الگ کال سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ رجسٹرڈ مستحقین کو سبسڈی سے محروم کرنے والے پٹرول پمپس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ لائسنس منسوخی کی ہدایت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سرکاری سبسڈی کا فائدہ منظوری کے مطابق صارف تک پہنچے اور خوردہ سطح پر پروگرام کے نفاذ میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور توانائی، خزانہ، آئی ٹی اور دیگر متعلقہ شعبوں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے آئی ٹی وزارت کی نگرانی اور ڈیجیٹل نظام تیار کرنے والی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔
حکومت کے لیے اگلا اہم مرحلہ پٹرول پمپس کی تعمیل کی مسلسل نگرانی، شکایات کی تصدیق اور خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں ریگولیٹری کارروائی ہے۔ سرکاری بیان میں کسی مخصوص پٹرول پمپ کا نام یا منسوخ کیے جانے والے لائسنسوں کی تعداد نہیں بتائی گئی، اس لیے عملی کارروائی کی تفصیلات متعلقہ اداروں کے آئندہ اقدامات سے سامنے آئیں گی۔
