اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک کی معاشی ترقی کی حکمت عملی میں برآمدات کو مرکزی حیثیت دینے اور روایتی برآمدی شعبوں کے ساتھ مزید صنعتوں اور مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے یہ ہدایات منگل کو برآمدات میں بہتری اور معاشی نمو کی رفتار تیز کرنے سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔

اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ برآمدی سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ شعبوں اور صنعتوں کی شمولیت ضروری ہے تاکہ پاکستان کی تجارتی بنیاد متنوع ہو اور آمدنی چند روایتی شعبوں تک محدود نہ رہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ پاکستانی مصنوعات کے معیار کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، کوالٹی ایشورنس کے نظام مضبوط کیے جائیں اور عالمی ضوابط و معیار کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جائے۔

وزیراعظم نے مصنوعات کی قدر اور عالمی مسابقت بڑھانے کے لیے ویلیو ایڈیشن پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق برآمدی صنعتوں میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کو فروغ دینا اور ڈیجیٹل ذرائع سے کاروباری و انتظامی عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے برآمد کنندگان کو درپیش انتظامی اور کاروباری رکاوٹیں دور کرنے اور برآمدی عمل کو آسان، تیز اور زیادہ شفاف بنانے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ برآمدات کے فروغ کے لیے منظور شدہ اسٹریٹجک روڈ میپ پر پیش رفت جاری ہے۔ شرکا نے نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی، برآمدی شعبوں میں تنوع، مصنوعات کے معیار میں بہتری اور کاروباری سہولت کاری سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق بعض دوست ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں اور ترجیحی تجارتی انتظامات پر کام ہو رہا ہے تاکہ پاکستانی مصنوعات کے لیے مارکیٹ رسائی بہتر کی جا سکے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ باغبانی کی مصنوعات کو برآمدی باسکٹ میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستانی کمپنیوں کو بین الاقوامی ہسپتالوں کی خریداری اور ٹینڈرز میں حصہ لینے کی ترغیب دینے پر بھی کام ہو رہا ہے تاکہ سرجیکل اور طبی آلات کی برآمدات بڑھائی جا سکیں۔ ٹیکسٹائل و چمڑے کی نمائش، ہیلتھ انجینئرنگ و منرلز شو اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر نمائشوں سمیت مختلف شعبہ جاتی پروگراموں کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کو غیر ملکی کمپنیوں کے سامنے پیش کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

حکام نے اجلاس کو یہ بھی بتایا کہ جدت اور برآمدات کے فروغ کے لیے انٹلیکچوئل پراپرٹی قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر کام ہو رہا ہے، جبکہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی تنظیم نو مکمل کی جا چکی ہے۔ وزیراعظم کی ہدایات کا محور برآمدات کی مقدار بڑھانے کے ساتھ معیار، نئی منڈیوں، ویلیو ایڈیشن اور کاروباری سہولت کو ایک مربوط پالیسی فریم ورک میں آگے بڑھانا ہے۔