اسلام آباد: وفاقی حکومت کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم کے تحت ملک بھر میں رجسٹریشن کی تعداد تقریباً 76 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ حکام کے مطابق 77 لاکھ 10 ہزار کے قریب فیول ریلیف ٹوکن استعمال کیے جا چکے ہیں۔ یہ پیش رفت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی برائے فیول سبسڈی کے اجلاس میں سامنے آئی۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق کمیٹی نے وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم کے نفاذ، رجسٹریشن، ٹوکن ریڈیمپشن، ادائیگیوں اور شکایات کے انتظام کا جائزہ لیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ رجسٹریشن کا عمل بڑے پیمانے پر جاری ہے اور ٹوکن کے استعمال کا مرحلہ دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔

اس اسکیم کا مقصد بڑھتی ہوئی ایندھن لاگت کے اثرات سے ایسے لوگوں کو ہدفی ریلیف دینا ہے جو روزگار یا روزمرہ نقل و حرکت کے لیے موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور چھوٹی گاڑیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ حکومت نے عمومی قیمت میں کمی کے بجائے شناخت شدہ مستحق صارفین تک مخصوص امداد پہنچانے کے لیے رجسٹریشن اور ٹوکن پر مبنی طریقۂ کار اختیار کیا ہے۔

اجلاس میں ادائیگیوں اور شکایات کے ازالے کے نظام پر بھی غور کیا گیا، کیونکہ بڑے پیمانے کی کسی بھی ہدفی سبسڈی اسکیم میں مستحق افراد کی درست شناخت، جعلی اندراج کی روک تھام اور ادائیگی کی تصدیق بنیادی چیلنج ہوتے ہیں۔ حکام کے فراہم کردہ اعداد کے مطابق ٹوکن ریڈیمپشن کی تعداد رجسٹرڈ افراد کے مجموعی اعداد سے قدرے زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک رجسٹرڈ صارف کو ایک سے زیادہ مرحلوں یا ادوار میں ٹوکن مل سکتے ہیں؛ رپورٹ میں اس فرق کی الگ تفصیلی وضاحت نہیں دی گئی۔

حکومت نے اسکیم کو کم آمدنی اور آمدورفت پر انحصار کرنے والے گھرانوں کے لیے ہدفی ریلیف کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس کے مالی بوجھ، فی مستحق فرد حقیقی فائدے اور ملک گیر رسائی کی مکمل تصویر آئندہ سرکاری اعداد و شمار سے واضح ہوگی۔ فی الحال دستیاب معلومات اسکیم میں تیزی سے بڑھتی رجسٹریشن اور ٹوکن استعمال کی نشاندہی کرتی ہیں۔