اسلام آباد: وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم کے ملک گیر نفاذ کے بعد رجسٹرڈ صارفین کی تعداد تقریباً 76 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ 77 لاکھ سے زیادہ فیول ٹوکن استعمال کیے جا چکے ہیں۔ یہ اعداد قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کے تازہ جائزہ اجلاس میں پیش کیے گئے، جس کی صدارت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اجلاس میں اسکیم کے رجسٹریشن، ٹوکن اجرا، فیول اسٹیشنز پر استعمال اور ادائیگی کے نظام کا جائزہ لیا گیا۔ اسحاق ڈار نے وفاقی اور صوبائی اداروں کو ہدایت کی کہ اسکیم کے نفاذ میں باہمی رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ اہل صارفین کو عملی رکاوٹوں کے بغیر رعایت مل سکے۔

اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور دیگر اہل دو یا تین پہیہ گاڑیوں کے صارفین کے لیے ہفتہ وار 500 روپے کا ٹوکن رکھا گیا ہے، جسے کسی مخصوص کم از کم لیٹر کی شرط کے بغیر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اہل 800 سی سی تک چار پہیہ گاڑیوں کے لیے الگ طریقہ کار نافذ ہے۔ حکومت نے ابتدائی عوامی فیڈبیک کے بعد دو اور تین پہیہ گاڑیوں کے لیے بعض شرائط میں نرمی بھی کی تھی۔

اس سے پہلے 25 ستمبر کو سرکاری اعداد میں 58 لاکھ سے زیادہ رجسٹریشن اور تقریباً 47 لاکھ افراد کے فیول حاصل کرنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ تازہ اعداد رجسٹریشن اور ٹوکن استعمال میں مزید اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم رجسٹرڈ افراد، جاری ٹوکن اور ریڈیم شدہ ٹوکن الگ پیمانے ہیں، اس لیے انہیں ایک ہی تعداد یا منفرد مستفید افراد کی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔

حکومت نے دور دراز اور کم انٹرنیٹ والے علاقوں میں ایس ایم ایس کے ذریعے ٹوکن استعمال کی سہولت سمیت متبادل انتظامات بھی منظور کیے ہیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ادائیگیوں اور فیول اسٹیشن کوریج کی نگرانی جاری رہے گی۔ اسکیم کے مالی بوجھ، مجموعی سبسڈی لاگت اور طویل مدتی اثرات کا مکمل اندازہ مزید سرکاری مالیاتی اعداد سامنے آنے کے بعد ممکن ہوگا۔