اسلام آباد: حکومت نے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کو ملک بھر میں نافذ کرنے کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو رجسٹریشن کا عمل آسان، قابلِ رسائی اور پٹرول پمپوں پر عمل درآمد ہموار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت 15 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں بتایا گیا کہ اسکیم اسلام آباد میں فعال ہے جبکہ اسے 16 ستمبر کی رات 11 بج کر 59 منٹ پر ملک بھر میں شروع کیا جانا ہے۔

Geo News کے مطابق اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشا، چنگ چی اور دیگر دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے مالکان یا استعمال کنندگان کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 20 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جائے گا۔ 800 سی سی تک انجن رکھنے والی چھوٹی گاڑیوں کے لیے یہی ریلیف ماہانہ زیادہ سے زیادہ 30 لیٹر تک مقرر کیا گیا ہے۔ اس طرح متعلقہ حد تک رعایت براہِ راست ایندھن کی خریداری سے منسلک ہوگی۔

رجسٹریشن کے لیے شہریوں کو 9771 پر REG کے ساتھ اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر بھیجنا ہوگا، جبکہ گاڑی کا نمبر، صوبائی کوڈ اور رجسٹریشن کی تاریخ بھی فراہم کرنا ہوگی۔ اہل قرار پانے والے صارفین فیول ٹوکن حاصل کرنے کے لیے اسی نمبر پر TOK بھیج سکیں گے، جس کے بعد ٹوکن پٹرول پمپ پر رعایتی نرخ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ حکومت نے عوامی آگاہی بڑھانے اور رجسٹریشن میں سہولت دینے کے لیے منتخب نمائندوں اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے رضاکاروں کو بھی شامل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

اس اسکیم کی مالی منظوری ایک روز قبل اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دی تھی۔ سرکاری پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ECC نے ہدفی فیول ریلیف کے لیے 75 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی۔ سرکاری تفصیل میں دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ہفتہ وار 500 روپے، یعنی پانچ لیٹر پر 100 روپے فی لیٹر، اور 800 سی سی تک غیر تجارتی کار کے لیے مقررہ حد کے اندر ریلیف کا فریم ورک بتایا گیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل Fuel Pass System کے ذریعے فائدہ اہل کم آمدنی والے صارفین تک پہنچانے اور شفافیت بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اسکیم ایک گاڑی فی صارف یا مالک تک محدود رکھنے کی پالیسی کے ساتھ ترتیب دی گئی ہے۔ عملی سطح پر ملک گیر اجرا 16 ستمبر کی رات کے لیے مقرر ہے، اس لیے دن کے اوقات میں تمام شہروں میں یکساں دستیابی فرض نہیں کی جانی چاہیے۔