اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی ہے کہ برآمد کنندگان کو درپیش انتظامی اور کاروباری رکاوٹیں دور کی جائیں اور برآمدی عمل کو زیادہ آسان، تیز اور شفاف بنایا جائے۔ 15 ستمبر کو اسلام آباد میں برآمدات بڑھانے کے اقدامات کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملکی اقتصادی نمو کی حکمت عملی میں برآمدات کے پھیلاؤ کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ روایتی برآمدی شعبوں کے ساتھ مزید صنعتوں اور شعبوں کو بھی عالمی منڈیوں کے لیے تیار کیا جائے تاکہ پاکستان کی برآمدی بنیاد وسیع ہو۔ انہوں نے پاکستانی مصنوعات کے معیار کو بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق بنانے، معیار کی یقین دہانی کے نظام مضبوط کرنے اور متعلقہ عالمی قواعد و ضوابط پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں ویلیو ایڈیشن کو بھی اہم ترجیح قرار دیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایسی مصنوعات کی تیاری اور برآمد پر توجہ دی جائے جن میں مقامی سطح پر زیادہ قدر شامل ہو، تاکہ عالمی منڈی میں پاکستانی اشیا کی قیمت اور مسابقتی صلاحیت دونوں بہتر ہو سکیں۔ انہوں نے برآمدی صنعتوں میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کے فروغ اور ڈیجیٹلائزیشن کے زیادہ استعمال کی بھی حمایت کی۔

حکام نے اجلاس کو منظور شدہ اسٹریٹجک برآمدی روڈ میپ پر عمل درآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی، برآمدی شعبوں میں تنوع، مصنوعات کے معیار میں بہتری اور کاروباری سہولت کے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کئی دوست ممالک کے ساتھ آزاد تجارت اور ترجیحی تجارت کے معاہدوں پر کام جاری ہے تاکہ پاکستانی مصنوعات کے لیے مارکیٹ رسائی بڑھائی جا سکے۔

سرکاری بریفنگ میں ہارٹی کلچر مصنوعات کو برآمدی سبد میں زیادہ شامل کرنے اور پاکستانی سرجیکل و طبی آلات بنانے والی کمپنیوں کو بین الاقوامی ہسپتالوں کی خریداری اور ٹینڈرنگ کے عمل میں حصہ لینے کی ترغیب دینے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا۔ ان تجاویز کا مقصد مخصوص شعبوں میں موجود برآمدی صلاحیت کو نئے خریداروں اور منڈیوں سے جوڑنا ہے۔

Business Recorder نے بھی اجلاس کی رپورٹنگ میں بتایا کہ حکومت برآمدات میں تنوع اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں کم کرنے پر زور دے رہی ہے۔ موجودہ ہدایات پالیسی سمت اور انتظامی اصلاحات سے متعلق ہیں؛ ان کے حقیقی اثرات کا انحصار آئندہ عمل درآمد، تجارتی معاہدوں کی پیش رفت، صنعتوں کی پیداواری صلاحیت اور بین الاقوامی طلب پر ہوگا۔