اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ وفاقی وزارتوں اور محکموں کو گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص 100 میگاواٹ سولر پاور منصوبے، کی جلد تکمیل کے لیے کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے یہ احکامات گلگت بلتستان میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیے، جس میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

وزیراعظم آفس کے مطابق اجلاس میں جولائی 2026 میں وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کی گئی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ میں خطے میں جاری وفاقی ترقیاتی اسکیموں کی موجودہ صورتحال، ان کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں اور بروقت تکمیل کے لیے درکار اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے پن بجلی، بنیادی ڈھانچے اور شمسی توانائی سے متعلق منصوبوں کی پیش رفت پر بھی غور کیا۔

وزیراعظم نے وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے 100 میگاواٹ سولر پاور منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ حکومت کے مطابق اس منصوبے کا مقصد گلگت بلتستان میں بجلی کی دستیابی بہتر بنانا اور توانائی کے مقامی مسائل کم کرنے میں مدد دینا ہے۔ اجلاس میں نلتر پاور پراجیکٹ کی تکمیل، انسداد دہشت گردی کی صلاحیت مضبوط بنانے اور خطے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تنصیب سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔

شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں کے لیے ضروری فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کر کے انتظامی یا عملی رکاوٹیں ترجیحی بنیادوں پر دور کی جائیں۔ انہوں نے بالخصوص توانائی کے منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی پر زور دیا تاکہ ان کے فوائد جلد عوام تک پہنچ سکیں۔

اجلاس میں یکم نومبر کو گلگت بلتستان میں منائے جانے والے تاریخی دن کے حوالے سے بھی خطے کے عوام کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ وزیراعظم کے دورۂ گلگت بلتستان کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔ حکومت نے خطے کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معیار زندگی میں بہتری کو وفاقی ترجیحات میں شامل قرار دیا ہے۔

حکومتی بیان میں منصوبوں کے لیے کسی نئی تکمیل کی حتمی تاریخ یا اضافی مالی لاگت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے 100 میگاواٹ منصوبے کی عملی پیش رفت کا انحصار فنڈز کے اجرا، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور زمینی سطح پر تعمیراتی و تکنیکی کام کی رفتار پر ہوگا، جن کی باقاعدہ نگرانی کی ہدایت وزیراعظم نے دی ہے۔