اسلام آباد: پاکستان اور سنگاپور نے قدرتی آفات کی تیاری اور ہنگامی ردعمل میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ مفاہمت پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سنگاپور سول ڈیفنس فورس کے درمیان طے پائی، جبکہ دستاویز کا تبادلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے اسلام آباد میں کیا۔

پاکستان کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مفاہمتی یادداشت دونوں ممالک کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ قدرتی آفات کے مقابلے کے لیے تیاری، ردعمل اور قومی و ادارہ جاتی لچک کو مضبوط بنایا جائے۔ یہ پیش رفت سنگاپور کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے دوران ہوئی، جو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے ساٹھ سال مکمل ہونے کے موقع پر کیا گیا ہے۔

سنگاپور کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق تعاون کے ممکنہ شعبوں میں ابتدائی انتباہی نظام، بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ، سرچ اینڈ ریسکیو صلاحیتوں کی مضبوطی اور مشترکہ تربیت و مشقوں کے امکانات شامل ہیں۔ سنگاپور کے وزیر خارجہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

پاکستان کو حالیہ برسوں میں بڑے سیلابوں، شدید بارشوں، گرمی کی لہروں اور دیگر موسمیاتی خطرات کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث آفات سے قبل تیاری اور اداروں کے درمیان مربوط ردعمل کی اہمیت بڑھی ہے۔ سنگاپور نے پاکستان کے بڑے پیمانے کی قدرتی آفات سے نمٹنے کے تجربے کو قابلِ استفادہ قرار دیا، جبکہ پاکستان جدید شہری ہنگامی انتظام، تربیت اور تکنیکی طریقوں میں سنگاپور کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

یہ مفاہمتی یادداشت کسی ایک مخصوص منصوبے یا مالی پیکیج کا اعلان نہیں بلکہ ادارہ جاتی تعاون کے لیے ایک فریم ورک ہے۔ اس کے تحت آئندہ عملی سرگرمیوں کی نوعیت، وقت اور دائرہ کار دونوں ملکوں کے متعلقہ اداروں کی مشاورت اور الگ انتظامات سے طے ہوگا۔

دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، عوامی روابط اور علاقائی و عالمی امور بھی زیر بحث آئے۔ پاکستان اور سنگاپور نے باقاعدہ سیاسی مشاورت اور اعلیٰ سطحی روابط بڑھانے پر بھی اتفاق ظاہر کیا۔ تاہم آفات سے نمٹنے کی مفاہمت اس دورے کا ایک واضح عملی نتیجہ ہے، کیونکہ اس میں دونوں ممالک کے مخصوص اداروں کے درمیان تعاون کا باضابطہ راستہ متعین کیا گیا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی سے وابستہ خطرات کے تناظر میں اس معاہدے کی عملی اہمیت اس وقت سامنے آئے گی جب ابتدائی انتباہ، ریسکیو، تربیت اور مشترکہ مشقوں سے متعلق سرگرمیاں شروع ہوں گی۔ فی الحال سرکاری بیانات نے تعاون کے شعبوں کی نشاندہی کی ہے، لیکن کسی مخصوص مشترکہ مشق یا منصوبے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔