کٹھمنڈو: ہمالیائی ملک بھوٹان میں شنتافو برفانی جھیل کے کنارے ٹوٹنے سے اچانک سیلاب آیا جس نے شمالی گاسا خطے میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، تاہم حکام اور مقامی میڈیا کے مطابق فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ واقعہ 30 اکتوبر کی رات کے بعد سامنے آیا اور متاثرہ علاقے کو پانی پہنچنے سے پہلے خالی کرا لیا گیا تھا۔
بھوٹان کے سرکاری نشریاتی ادارے بی بی ایس کے مطابق سیلابی ریلے نے گاسا تشاچو کے قدرتی گرم چشموں کے مقام پر انفراسٹرکچر کو متاثر کیا۔ یہ مقام شمالی بھوٹان کا معروف سیاحتی مرکز ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ اندھیرے اور پانی کے شدید بہاؤ کے باعث نقصان کی مکمل نوعیت فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔ دو بیلی پل بہہ جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا، لیکن اس کی مکمل تصدیق نقصان کے تفصیلی جائزے کے بعد ہوگی۔
بھوٹان کے قومی اخبار کوئنسل کے مطابق لایا گاؤں کی جانب جانے والی سڑک کا ایک حصہ بہہ گیا جس کے بعد راستہ آمدورفت کے لیے غیر معینہ مدت تک بند کر دیا گیا۔ متاثرہ گرم چشمے اسی علاقے میں واقع ہیں۔ بروقت انخلا کے باعث سیلاب کے پہنچنے کے وقت لوگوں کی بڑی تعداد خطرے کے مقام سے دور تھی، جس سے ممکنہ جانی نقصان کم کرنے میں مدد ملی۔
یہ علاقہ ماضی میں بھی اچانک سیلاب کا سامنا کر چکا ہے۔ 2021 میں موچھو دریا کے رخ میں تبدیلی کے بعد گاسا تشاچو میں سیلابی پانی داخل ہوا تھا۔ پہاڑی علاقوں میں برفانی جھیلوں کا پانی اچانک خارج ہونے کے واقعات سڑکوں، پلوں، آبادیوں اور سیاحتی تنصیبات کے لیے خاص خطرہ بن سکتے ہیں کیونکہ پانی اور ملبہ بہت تیزی سے نشیبی علاقوں کی طرف بڑھتا ہے۔
حالیہ واقعے میں حکام کی اولین توجہ متاثرہ راستوں اور پلوں کی حالت جانچنے، آمدورفت محفوظ بنانے اور گرم چشموں کے مقام پر نقصان کا تخمینہ لگانے پر ہے۔ ابھی تک حکام نے مالی نقصان کا مجموعی تخمینہ جاری نہیں کیا اور نہ ہی یہ واضح کیا ہے کہ بند سڑک کب دوبارہ کھولی جا سکے گی۔
بھوٹان بھارت اور چین کے درمیان واقع پہاڑی ملک ہے جہاں بلند علاقوں میں برفانی جھیلوں اور تیز ڈھلوانوں کے باعث موسمی اور جغرافیائی خطرات نمایاں ہیں۔ شنتافو جھیل کے اس واقعے میں جانی نقصان نہ ہونا اہم پیش رفت ہے، لیکن متاثرہ بنیادی ڈھانچے کی مکمل صورت حال زمینی معائنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

