اسلام آباد: پاکستان نیشنل کلین ائیر کانفرنس 2026 کے اختتام پر شرکا نے ’اسلام آباد کلین ائیر کمپیکٹ‘ منظور کیا ہے جس کا مقصد ملک میں فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مشترکہ اور مسلسل حکمت عملی قائم کرنا ہے۔ دو روزہ کانفرنس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، ماحولیاتی تحفظ کے اداروں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ڈان کے مطابق کمپیکٹ میں ٹرانسپورٹ، صنعت، زرعی باقیات جلانے، گھریلو ایندھن اور کچرے سمیت آلودگی کے اہم ذرائع پر مربوط کارروائی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فضائی معیار بہتر بنانے کے لیے صرف موسمی یا ہنگامی اقدامات کافی نہیں، بلکہ اخراج کے ذرائع کی باقاعدہ پیمائش، ڈیٹا کی دستیابی اور قوانین کے مستقل نفاذ کو پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔

کمپیکٹ میں اخراج کی باقاعدہ انوینٹری تیار کرنے، پیش رفت کا سالانہ جائزہ لینے اور وفاقی و صوبائی سطح پر اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو مضبوط بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ ماحولیاتی حکام نے خاص طور پر موسم سرما اور سموگ کے ادوار سے پہلے پیشگی تیاری، نگرانی کے نظام اور مشترکہ ردعمل کی اہمیت اجاگر کی۔

کانفرنس میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ پاکستان کے بڑے شہری مراکز میں فضائی آلودگی صحت عامہ، تعلیم، روزگار اور اقتصادی سرگرمیوں پر اثر ڈالتی ہے۔ باریک ذرات اور دیگر آلودہ مادوں کی بلند سطحیں خاص طور پر بچوں، بزرگوں، بیرونی ماحول میں کام کرنے والوں اور پہلے سے بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے زیادہ خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مسدق ملک نے کانفرنس سے خطاب میں صاف ہوا کے لیے پالیسی اور عملی اقدامات کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ماحولیاتی تحفظ کے اداروں کے نمائندوں نے کہا کہ موثر نفاذ کے لیے صوبائی اور مقامی سطح پر صلاحیت، نگرانی کے آلات اور قابل اعتماد ڈیٹا ضروری ہے۔

اسلام آباد کلین ائیر کمپیکٹ بذات خود کسی ایک آلودگی کے ذریعے کو فوری طور پر ختم کرنے کا قانونی حکم نہیں، بلکہ مشترکہ پالیسی سمت اور ادارہ جاتی تعاون کا فریم ورک ہے۔ اس کی عملی افادیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سفارشات کو بجٹ، قواعد، نفاذ اور قابل پیمائش اہداف میں کس حد تک تبدیل کرتی ہیں۔

پاکستان میں ہر سال موسم سرما کے دوران پنجاب سمیت کئی علاقوں میں سموگ اور خراب فضائی معیار شدید عوامی مسئلہ بن جاتا ہے۔ کانفرنس میں منظور ہونے والا کمپیکٹ اس مسئلے کو ہنگامی ردعمل کے بجائے سال بھر کی منصوبہ بندی، ڈیٹا اور بین الصوبائی تعاون کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔