اسلام آباد: دو روزہ پاکستان نیشنل کلین ایئر کانفرنس کے اختتام پر ’اسلام آباد کلین ایئر کمپیکٹ‘ منظور کیا گیا ہے، جس میں ملک میں فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کی مربوط کارروائی، قوانین کے مؤثر نفاذ، اخراج کے باقاعدہ ڈیٹا اور سالانہ پیش رفت جائزوں پر زور دیا گیا ہے۔ کانفرنس میں وفاقی و صوبائی ماحولیاتی اداروں کے علاوہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کانفرنس کا اہتمام پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے کیا۔ شرکا نے ٹرانسپورٹ، صنعت، فصلوں کی باقیات جلانے، گھریلو ایندھن اور کچرے کو فضائی آلودگی کے اہم ذرائع کے طور پر زیر بحث لایا۔ اجلاسوں میں اس بات پر اتفاق سامنے آیا کہ پالیسی اعلانات کو عملی پروگراموں میں تبدیل کیے بغیر فضائی معیار میں پائیدار بہتری ممکن نہیں ہوگی۔

پاک ای پی اے کے ڈائریکٹر جنرل سید ابرار حسین نے موسم سرما اور سموگ کے دور سے پہلے تیاری، مختلف اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی اور مضبوط نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔ تکنیکی نشستوں میں ماہرین نے کہا کہ آلودگی کے اصل ذرائع کی درست شناخت کے لیے مانیٹرنگ نیٹ ورکس، اخراج کی انوینٹری، سورس اپورشنمنٹ مطالعات اور حقیقی وقت میں ڈیٹا جمع کرنے کے نظام میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ قابل اعتماد ڈیٹا کے بغیر ریگولیٹری اقدامات اور سرکاری اخراجات کی ترجیحات مؤثر انداز میں طے کرنا مشکل رہتا ہے۔

فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل بھی کانفرنس کا اہم موضوع رہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے نمائندے نے وفاق اور صوبوں کی ذمہ داریوں پر اتفاق رائے اور قومی کلین ایئر فنانسنگ فریم ورک قائم کرنے کی تجویز دی تاکہ سرکاری فنڈز، موسمیاتی مالیات، ترقیاتی معاونت اور نجی سرمایہ کاری کو ایک مربوط سمت دی جا سکے۔ عالمی بینک کے نمائندے نے ٹرانسپورٹ اور زراعت میں ایسے منصوبوں کی نشاندہی کی جنہیں قابل اعتماد اخراج کے بنیادی اعداد و شمار اور نگرانی کے ساتھ کاربن کریڈٹ سرمایہ کاری سے جوڑا جا سکتا ہے۔

ٹرانسپورٹ کے شعبے میں گاڑیوں کی بہتر جانچ، برقی گاڑیوں کی چارجنگ سہولیات، پبلک ٹرانسپورٹ کی توسیع، مال برداری کی کارکردگی اور ریلوے کے زیادہ استعمال پر بات ہوئی۔ فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کے لیے کسانوں میں آگاہی، مشینی متبادل، باقیات کے دوسرے استعمال اور مالی معاونت کی تجاویز سامنے آئیں۔ صنعتی شعبے کے لیے اخراج کی نگرانی، توانائی آڈٹ، صاف ٹیکنالوجی اور اینٹوں کے بھٹوں کی جدید کاری کو اہم اقدامات قرار دیا گیا۔

کمپیکٹ کی کامیابی کا انحصار اب اس بات پر ہوگا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ذمہ داریاں کس حد تک واضح کرتی ہیں، منصوبوں کے لیے مستقل مالی وسائل مختص ہوتے ہیں یا نہیں، اور اخراج میں کمی کو قابل پیمائش ڈیٹا کے ذریعے سالانہ بنیاد پر جانچا جاتا ہے۔ کانفرنس نے قومی کلین ایئر پالیسی 2023 کے عملی نفاذ کو بھی اس وسیع تر کوشش کا مرکزی حصہ قرار دیا۔