اسلام آباد: لینسیٹ کاؤنٹ ڈاؤن 2026 کی تازہ رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی سے صحت کو بڑھتے خطرات کی نشاندہی کے بعد پاکستان کے صحت اور ماحولیات کے ماہرین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے زیادہ پیشگی اور مربوط تیاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، فضائی آلودگی اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات کے مقابلے کے لیے صحت کے نظام کو موسمیاتی جھٹکوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔

ڈان کے مطابق لینسیٹ کاؤنٹ ڈاؤن 2026 رپورٹ لندن میں جاری کی گئی اور اس نے موسمیاتی تبدیلی کو عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال کے طور پر دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ رپورٹ کے مطابق پیرس معاہدے کے بعد اوسط سالانہ گرمی سے متعلق اموات میں 36 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ 2023 میں گرمی سے منسلک اموات کا تخمینہ 710,000 تک پہنچا۔ رپورٹ نے 2025 میں گرمی سے متعلق عالمی معاشی نقصانات کا تخمینہ 1.07 ٹریلین ڈالر لگایا۔ یہ عالمی اعداد رپورٹ کے ماڈلز اور تجزیے پر مبنی ہیں اور انہیں پاکستان کے مخصوص قومی اعداد کے طور پر نہیں پڑھا جانا چاہیے۔

سابق پنجاب وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے ڈان سے گفتگو میں کہا کہ یہ انتباہ پاکستان کے لیے خاص طور پر اہم ہے، جہاں 2022 کے تباہ کن سیلاب نے آبادیوں کو بے گھر کیا، صحت کی سہولتوں کو نقصان پہنچایا اور ادویات، صاف پانی اور غذائیت تک رسائی متاثر کی۔ ان کے مطابق پاکستان کا آفات سے نمٹنے کا نظام اکثر ردعمل پر مبنی رہا ہے، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ خطرہ پیدا ہونے سے پہلے تیاری اور وسائل مختص کیے جائیں۔

ڈاکٹر جاوید اکرم نے ہیٹ ہیلتھ ایکشن پلان، مؤثر ابتدائی وارننگ نظام، موسمیاتی خطرات برداشت کرنے والے ہسپتال، بیماریوں کی بہتر نگرانی اور صاف پانی و نکاسی تک رسائی بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی سطح پر موسمیاتی لچک رکھنے والی صحت سہولتوں کے لیے مخصوص فنڈنگ اور بین الاقوامی شراکت داروں سے قابل پیش گوئی گرانٹ پر مبنی کلائمیٹ فنانس کی ضرورت بھی بیان کی۔

سابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی موسمیاتی تبدیلی کو پاکستان میں بڑھتا ہوا صحت عامہ کا مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق شدید گرمی، اچانک سیلاب، کلاؤڈ برسٹ اور خراب فضائی معیار بیماری اور اموات کے خطرات بڑھانے کے ساتھ صحت کی خدمات، پانی، غذائیت اور معاشی تحفظ کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے صحت، ماحولیات، پانی، توانائی اور مالیاتی شعبوں کے درمیان مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔

ماحولیاتی سائنس کے ماہر ڈاکٹر محمد عرفان خان نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ عالمی سطح پر موسمیاتی خطرات کی بحث میں پاکستان جیسے زیادہ متاثر ممالک کے تجربات کو مناسب نمائندگی ملنی چاہیے۔ ماہرین کی یہ آرا پالیسی سفارشات ہیں؛ ان پر عمل درآمد کے لیے مالی وسائل، صوبائی و وفاقی ہم آہنگی اور مقامی سطح پر قابل پیمائش منصوبہ بندی درکار ہوگی۔ تازہ رپورٹ نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کو صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ صحت، معیشت اور بنیادی خدمات سے جڑا پالیسی مسئلہ بنانے کی بحث کو مزید تقویت دی ہے۔