وفاقی حکومت نے فضائی آلودگی کے خلاف عملی اور تکنیکی حل تیار کرنے والے اسٹارٹ اپس کی مدد کے لیے 10 ملین ڈالر، یعنی ایک کروڑ ڈالر، کا فنڈ قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے اسلام آباد میں پاکستان نیشنل کلین ایئر کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت محدود سرکاری وسائل سے یہ فنڈ قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ ترقیاتی شراکت داروں سے بھی تعاون طلب کیا گیا ہے۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری بیان کے مطابق مجوزہ فنڈ کا مقصد ایسی نئی کمپنیوں اور منصوبوں کو معاونت دینا ہے جو پاکستان کی فضائی آلودگی کے مسئلے کے لیے قابل عمل حل تیار کر رہے ہوں۔ وزیر نے بتایا کہ فنڈ کے بورڈ سے منظوری اگلے روز متوقع تھی۔ اس لیے موجودہ اعلان کو فنڈ کے قیام کا حکومتی منصوبہ سمجھنا درست ہے؛ اسے حتمی بورڈ منظوری، رقوم کی تقسیم یا اسٹارٹ اپس کو ادائیگی شروع ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ فضائی آلودگی کا بوجھ غریب اور کمزور طبقات پر غیر متناسب طور پر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق نسبتاً خوشحال گھرانے ایئر پیوریفائر اور دیگر حفاظتی اقدامات اختیار کر سکتے ہیں، جبکہ بچے، سڑکوں پر کام کرنے والے افراد، کسان اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے شہری آلودہ فضا سے مسلسل متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے فضائی آلودگی کی معاشی لاگت پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کے 6.5 فیصد کے مساوی بتائی، جس میں بیماری، ہسپتال میں علاج اور خاندانوں پر مالی دباؤ جیسے عوامل شامل ہیں۔
وزیر نے بچوں کی صحت پر آلودگی کے اثرات کے حوالے سے یونیسف کی تحقیق کا ذکر کیا اور سانس کی دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے آکسیجن اور ادویات کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ فضائی آلودگی محض قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں اور پالیسی انتخاب سے جڑا مسئلہ ہے، اس لیے صنعتی اخراج اور دیگر ذرائع کو کنٹرول کرنے کے لیے انجینئرنگ، مالی اور پالیسی سطح کے اقدامات ضروری ہیں۔
کسانوں کی جانب سے فصلوں کی باقیات جلانے کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی اہداف کے ساتھ زرعی برادری کے معاشی حالات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ حکومت نے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، یونیسف اور جرمن ترقیاتی ادارے جی آئی زیڈ سمیت ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون کا ذکر کیا، تاہم اعلان میں ان اداروں کی جانب سے مجوزہ 10 ملین ڈالر فنڈ میں کسی مخصوص مالی شراکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔
پاکستان کے بڑے شہری مراکز، خصوصاً پنجاب کے شہروں میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ فضائی معیار ایک سنگین عوامی صحت اور انتظامی مسئلہ بن جاتا ہے۔ مجوزہ فنڈ حکومتی پالیسی میں ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کے حل کو شامل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کی حقیقی تاثیر کا اندازہ بورڈ کی حتمی منظوری، فنڈنگ کے قواعد، انتخاب کے معیار، منتخب منصوبوں اور بعد میں حاصل ہونے والے قابل پیمائش نتائج کے بعد ہی ہو سکے گا۔

