وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی اور انتظامی سہولیات فوری طور پر بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق وزیراعظم نے ہسپتال میں علاج کے معیار، ادویات کی دستیابی، صفائی، مریضوں کی رہنمائی اور مختلف شعبوں کے انتظام کو زیادہ مؤثر بنانے پر زور دیا۔
پمز وفاقی دارالحکومت کا سب سے بڑا سرکاری تدریسی ہسپتال ہے اور اسلام آباد کے ساتھ راولپنڈی، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور دیگر علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں مریض یہاں آتے ہیں۔ مریضوں کے زیادہ دباؤ کے باعث ایمرجنسی، او پی ڈی، تشخیصی خدمات اور بستروں کی دستیابی جیسے مسائل انتظامیہ کے لیے مستقل چیلنج رہے ہیں۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مریضوں کو مختلف کاؤنٹرز اور شعبوں کے درمیان غیر ضروری انتظار سے بچانے، ادویات اور تشخیصی سہولتوں تک رسائی بہتر بنانے اور ہسپتال میں صفائی و نظم و ضبط کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے قابل پیمائش اقدامات کیے جائیں۔
حالیہ عرصے میں پمز میں فائر سیفٹی سمیت انتظامی اور حفاظتی معاملات بھی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ سی ڈی اے نے اسلام آباد کے متعدد طبی اداروں کے ساتھ پمز کو بھی فائر اور لائف سیفٹی تقاضوں کی عدم تعمیل پر چالان کیا تھا۔ صحت کی سہولت بہتر بنانے کے ساتھ عمارتوں اور مریضوں کی حفاظت بھی انتظامی اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔
وزیراعظم کی ہدایت پالیسی اور انتظامی سمت فراہم کرتی ہے، لیکن مریضوں کے تجربے میں حقیقی تبدیلی کے لیے بجٹ، افرادی قوت، ادویات کی خریداری، آلات کی مرمت اور انتظامی جوابدہی ضروری ہوگی۔ پمز جیسے بڑے ہسپتال میں اصلاحات کا معیار اس بات سے ناپا جائے گا کہ انتظار کا وقت، ادویات کی دستیابی، صفائی اور علاج تک رسائی میں عملی طور پر کتنی بہتری آتی ہے۔




