اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان کی جانب سے حجاج اور بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کے لیے میننجوکوکل میننجائٹس اور انفلوئنزا ویکسین کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت خریداری کے عمل کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ ڈان کی 18 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم آفس کے نوٹیفکیشن کے تحت کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

کمیٹی میں انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو افسر، اٹارنی جنرل آف پاکستان کا نمائندہ اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا منیجنگ ڈائریکٹر شامل ہیں۔ پی پی آر اے کے منیجنگ ڈائریکٹر کمیٹی کے رکن/سیکریٹری کی ذمہ داری بھی انجام دیں گے۔ کابینہ ڈویژن کمیٹی کو سیکریٹریٹ معاونت فراہم کرے گا اور ضرورت پڑنے پر مزید ارکان کو شامل کیا جا سکے گا۔

انکوائری پینل کو خریداری کے پورے عمل، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اختیار کرنے کی قانونی بنیاد، ضروری منظوریوں، پی پی آر اے قواعد کی پابندی، بولی کی دستاویزات، ویکسین کی مقدار، ادائیگی کی شرائط اور جائزہ معیار کی جانچ کا کام سونپا گیا ہے۔ کمیٹی پروکیورمنٹ کی مدت، بولیوں کی جانچ، شکایات کے ازالے اور لازمی اشاعت سے متعلق تقاضوں کا بھی جائزہ لے گی۔

رپورٹ کے مطابق پینل کو مالی اثرات، ویکسین کی قیمتوں کے معقول ہونے، ریونیو شیئرنگ کے انتظام اور عوامی مفاد کے تحفظ کے پہلو بھی دیکھنے ہیں۔ اگر کوئی بے قاعدگی ثابت ہوتی ہے تو کمیٹی ذمہ داری کی نشاندہی اور اصلاحی اقدامات کی سفارش کرے گی۔ وزیراعظم آفس نے کمیٹی کو اپنی رپورٹ، نتائج اور سفارشات 48 گھنٹوں میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ انکوائری ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب سات فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں متعلقہ پروکیورمنٹ کو چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست گزار کمپنیوں نے قواعد کی خلاف ورزی اور شفافیت کی کمی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ عدالت نے متعلقہ وزارتوں، پی پی آر اے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی اور ایک نجی کمپنی سمیت فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ یہ الزامات زیرِ سماعت ہیں اور انکوائری یا عدالتی عمل مکمل ہونے سے پہلے انہیں ثابت شدہ بے ضابطگی قرار نہیں دیا جا سکتا۔