سندھ حکومت نے تقریباً 13 سال قبل منظور ہونے والے سندھ وٹنس پروٹیکشن ایکٹ 2013 میں ترامیم پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس عمل کے بعد قانون کے نفاذ کے لیے قواعد مرتب کیے جائیں گے۔ صوبائی حکام نے یہ مؤقف سندھ ہائیکورٹ کے سامنے اس درخواست کی سماعت کے دوران پیش کیا جس میں قانون کے قواعد نہ بنائے جانے اور مؤثر عملدرآمد میں تاخیر کو چیلنج کیا گیا ہے۔
قانون سیکریٹری سعید احمد شیخ اور ایڈیشنل ہوم سیکریٹری جاوید احمد ابڑو کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی تعمیلی رپورٹ کے مطابق قانون کے تحت درکار بعض ادارہ جاتی ڈھانچے قائم کیے جا چکے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ وٹنس پروٹیکشن ایڈوائزری بورڈ، وٹنس پروٹیکشن یونٹ اور یونٹ کی معاونت کے لیے کمیٹی قائم کی گئی ہے، جبکہ صوبے کے اضلاع میں وٹنس پروٹیکشن افسران بھی نوٹیفائی کیے گئے ہیں۔
تاہم قواعد کی تیاری کے معاملے پر حکومت نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ داخلہ اور محکمہ قانون ایکٹ کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق ممکنہ ترامیم تجویز کی جا سکیں۔ حکام کے مطابق اس قانونی جائزے اور ترامیم کے بعد قواعد بنائے جائیں گے۔ اس سے قبل عدالت قواعد کی تیاری میں طویل تاخیر پر متعلقہ محکموں سے جواب طلب کرتی رہی ہے۔
دو رکنی آئینی بینچ نے سماعت 12 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزار کو اس قانونی سوال پر دلائل کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی کہ آیا ایکٹ کی دفعہ 29 کے الفاظ کی روشنی میں حکومت کے لیے قواعد بنانا لازمی ہے، اور کیا قواعد نہ ہونے کی وجہ سے قانون کی کوئی بنیادی شق عملاً غیر مؤثر ہو رہی ہے۔
سندھ وٹنس پروٹیکشن ایکٹ فوجداری مقدمات میں گواہوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے مقصد سے بنایا گیا تھا اور اس میں جان کے تحفظ، مناسب رہائش، مالی معاونت اور بعض حالات میں قانونی ورثا کے لیے معاوضے جیسے اقدامات کا فریم ورک موجود ہے۔ عدالت میں جاری کارروائی کا حتمی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا، اس لیے حکومت کی مجوزہ ترامیم اور قواعد کو مکمل یا نافذ شدہ قانون سازی تصور نہیں کیا جا سکتا۔
