کراچی میں گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی نمائش چورنگی سے میونسپل پارک تک توسیع مالی سال 2026-27 کے دوران مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ سندھ کے گورنر سید محمد نہال ہاشمی نے منصوبے کے تعمیراتی مقام کے دورے کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت اپنے حصے کے فنڈز جاری کر چکی ہے اور کام کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو توسیعی روٹ جلد دستیاب ہو سکے۔

منصوبے کا زیرِ تعمیر توسیعی حصہ تقریباً 1.8 کلومیٹر طویل ہے اور نمائش چورنگی سے میونسپل پارک، جامہ کلاتھ مارکیٹ کے قریب، تک جاتا ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق اس حصے پر اسٹیشنوں کی تعمیر جاری ہے۔ تکمیل کے بعد گرین لائن کا موجودہ کوریڈور کراچی کے مرکزی تجارتی علاقوں کے مزید قریب پہنچ جائے گا، جس سے ایسے مسافروں کو فائدہ متوقع ہے جو اس وقت نمائش سے آگے سفر کے لیے دوسری سواری استعمال کرتے ہیں۔

گورنر نے تعمیراتی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ رپورٹ میں وفاقی فنڈنگ جاری ہونے کا ذکر ہے، تاہم تازہ دورے کے حوالے سے منصوبے کی مکمل لاگت، اب تک کے مجموعی اخراجات یا کسی نئے مالی پیکیج کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے ان اعداد سے متعلق کوئی اضافی دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔

کراچی میں گرین لائن کے ساتھ ریڈ لائن اور یلو لائن سمیت متعدد ماس ٹرانزٹ منصوبے مختلف مراحل میں ہیں۔ ان منصوبوں کی تعمیر کے دوران سڑکوں کی بندش، ٹریفک کے دباؤ اور دیگر شہری یوٹیلیٹیز پر اثرات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ گرین لائن کی مختصر مگر مرکزی علاقے تک جانے والی یہ توسیع موجودہ نیٹ ورک کے استعمال میں سہولت پیدا کر سکتی ہے، تاہم عملی فائدہ منصوبہ مکمل اور آپریشنل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگا۔

مالی سال 2026-27 جون 2027 میں ختم ہوگا، اس لیے گورنر کی بیان کردہ مدت کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے لیے باقی تعمیراتی کام اسی مالی سال کے اندر مکمل کرنا ہوگا۔ حتمی افتتاح یا مسافر سروس شروع ہونے کی مخصوص تاریخ دستیاب رپورٹ میں نہیں دی گئی۔