وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کا پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے اور دیرینہ مسائل کو بات چیت، باہمی مشاورت اور منصفانہ تقسیم کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ایکسپریس اردو اور ڈان کے مطابق خطاب میں ترقی، مقامی حقوق، سلامتی اور قومی یکجہتی کو ایک دوسرے سے جڑے موضوعات کے طور پر پیش کیا گیا۔
وزیراعظم نے شناختی کارڈ کی بنیاد پر شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی اور کہا کہ سیاسی یا معاشی مسائل کی آڑ میں تشدد کا راستہ قابل قبول نہیں۔ انہوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے دشمن ممالک کی مدد کا الزام بھی عائد کیا۔ یہ حکومت کا منسوب مؤقف ہے؛ اس خبر میں اسے کسی آزاد عدالتی یا بین الاقوامی تحقیق کا حتمی نتیجہ قرار نہیں دیا جا رہا۔
خطاب میں کراچی سے چمن تک این 25 شاہراہ کی تعمیر، گوادر بندرگاہ، زرعی شمسی نظام اور بجلی کی فراہمی کے منصوبوں کا ذکر کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ شاہراہ پر کام کرنے والے مزدوروں کو بھی حملوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سکیورٹی ادارے شہریوں کے تحفظ کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ منصوبوں کی تکمیل، لاگت یا زمانی شیڈول سے متعلق نئی تفصیلی دستاویز اس رپورٹ میں دستیاب نہیں تھی۔
وزیراعظم کے مطابق گوادر کی گہرائی بڑے جہازوں کے لیے اہم صلاحیت رکھتی ہے اور بندرگاہ پاکستان اور چین کے تعاون کا نمایاں منصوبہ ہے۔ انہوں نے کسانوں کو شمسی نظام دینے اور صوبے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا بھی حوالہ دیا۔ یہ نکات حکومتی پالیسی اور منصوبہ جاتی دعووں کی صورت میں بیان کیے گئے ہیں؛ زمینی پیش رفت کا اندازہ متعلقہ اداروں کی قابل پیمائش رپورٹوں سے ہوگا۔
ورکشاپ میں مکالمے کی ضرورت پر زور اس لیے اہم ہے کہ صوبے کے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی مسائل ایک ہی اقدام سے حل نہیں ہو سکتے۔ مقامی نمائندگی، روزگار، بنیادی خدمات، وسائل سے حصہ، قانون کی حکمرانی اور شہری تحفظ الگ مگر باہم مربوط شعبے ہیں۔ خطاب نے عمومی سمت واضح کی، مگر عمل درآمد کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے ذمہ دارانہ اقدامات، شفاف فیصلے اور نتائج کی مسلسل جانچ درکار ہوگی۔
اردو ہیڈ لائنز نے دہشت گردی اور بیرونی مدد سے متعلق دعوے کو وزیراعظم کے بیان کے طور پر واضح طور پر منسوب کیا ہے۔ کسی گروہ یا فرد کے بارے میں اضافی الزام شامل نہیں کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے مذاکراتی طریقۂ کار، وسائل کی تقسیم یا ترقیاتی منصوبوں کی باضابطہ نئی تفصیل جاری ہونے پر اسی واقعے کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔




