اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے بینکاری شعبے پر زور دیا ہے کہ کسانوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور ہاؤسنگ سمیت ترجیحی شعبوں کے لیے قرضوں کی فراہمی بڑھائی جائے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزیراعظم نے 9 ستمبر کو Access to Finance Plan 2026–2028 کے تناظر میں بینکوں سے کہا کہ مالی وسائل تک رسائی کو وسیع کرنے میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔

حکومتی منصوبے کا بنیادی مقصد ایسے شعبوں کے لیے رسمی مالیاتی نظام تک رسائی میں اضافہ کرنا ہے جہاں قرض کی دستیابی کاروباری سرگرمی، سرمایہ کاری اور روزگار پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ زراعت میں قرض کسانوں کی بیج، کھاد، مشینری اور دیگر پیداواری ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ ایس ایم ای شعبے کے لیے ورکنگ کیپیٹل اور توسیعی سرمایہ کاروباری سرگرمی برقرار رکھنے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

ہاؤسنگ فنانس بھی منصوبے کے ترجیحی شعبوں میں شامل ہے۔ پاکستان میں طویل مدتی رہائشی قرضوں کی رسائی محدود رہنے کے باعث حکومت اور مالیاتی ادارے مختلف ادوار میں اس شعبے کو وسعت دینے کے اقدامات کرتے رہے ہیں۔ تازہ ہدایت میں بینکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ قرض دینے کے عمل کو ترجیحی معاشی شعبوں تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچائیں۔

وزیراعظم کی ہدایت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پالیسی سطح پر مالی شمولیت، رسمی قرض تک رسائی اور نجی شعبے کے لیے فنانسنگ کو معاشی سرگرمی بڑھانے کے اہم ذرائع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم قرضوں میں اضافہ بینکوں کے کریڈٹ رسک، اہلیت کے معیار، شرح سود اور متعلقہ ضابطوں کے تابع رہے گا۔

Access to Finance Plan کی عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ بینک ترجیحی شعبوں میں حقیقی قرض گیر افراد اور کاروباروں تک کتنی مؤثر رسائی پیدا کرتے ہیں اور قرضوں کا معیار کس حد تک برقرار رہتا ہے۔ حکومتی ہدایت کا فوری مقصد مالیاتی اداروں کو ان شعبوں کی جانب زیادہ وسائل منتقل کرنے پر آمادہ کرنا ہے جو روزگار، پیداوار اور رہائش کی ضروریات سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔