پشاور: وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں نافذ ایمرجنسی کے پس منظر میں پشاور کے گورنر ہاؤس میں نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبے میں امن، حکومتی عمل داری اور ترقیاتی سرگرمیاں بحال کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خطرات سے متعلق حکام نے بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک اور خصوصاً خیبرپختونخوا کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے باعث حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت عسکری قیادت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور صوبے کی معاشی و سماجی بحالی پر کام کرے گی۔ ان کے مطابق امن کے بغیر پائیدار ترقی اور سرمایہ کاری کے اہداف حاصل نہیں کیے جاسکتے۔
اجلاس ایسے وقت ہوا ہے جب صوبائی سیاسی صورتحال بھی غیر معمولی ہے اور ایمرجنسی کے نفاذ پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات جاری ہیں۔ تحریک انصاف اور اس کے صوبائی ارکان نے اس اقدام پر اعتراضات اٹھائے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت اسے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے۔ ان سیاسی مؤقفوں کو الگ رکھتے ہوئے ایپکس کمیٹی کا بنیادی موضوع سکیورٹی اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد تھا۔
وزیراعظم نے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے عوام اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست شدت پسند تشدد کے سامنے پسپائی اختیار نہیں کرے گی۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان بہتر رابطے، انٹیلی جنس تعاون اور ترقیاتی ضروریات پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
خیبرپختونخوا کے متعدد اضلاع گزشتہ عرصے میں پولیس، سکیورٹی فورسز اور شہریوں کے خلاف حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں حکومت کو صرف سکیورٹی آپریشنز ہی نہیں بلکہ انتظامی کارکردگی، بنیادی خدمات، روزگار اور مقامی ترقی کے معاملات پر بھی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایپکس کمیٹی جیسے فورمز کا مقصد مختلف ریاستی اداروں کے اقدامات کو ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت مربوط کرنا ہے۔
اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی مکمل عملی تفصیلات فوری طور پر عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے آئندہ اقدامات کی نوعیت اور ان کے نتائج کا اندازہ سرکاری نوٹیفکیشنز، سکیورٹی صورتحال اور صوبے میں انتظامی سرگرمیوں سے ہوگا۔ وزیراعظم کا دورہ پشاور اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ وفاقی حکومت موجودہ سکیورٹی اور سیاسی بحران کو قومی سطح کی ترجیح کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
