بشکیک: وزیراعظم محمد شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے تین روزہ سرکاری دورے پر کرغزستان پہنچ گئے ہیں۔ ڈان اور سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم کا دورہ 31 اگست سے 2 ستمبر تک جاری رہے گا اور وہ کرغز صدر صدار ژاپاروف کی دعوت پر بشکیک پہنچے ہیں۔ ماناس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین عادل بیک کاسمالیف نے ان کا استقبال کیا۔

دورے کے دوران وزیراعظم شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس اور ایس سی او پلس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف سربراہی اجلاس سے خطاب میں مختلف علاقائی اور عالمی معاملات پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ پاکستان اس اجلاس کے بعد 2026-27 کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی چیئرمین شپ بھی سنبھالے گا، جو تنظیم کے اندر پاکستان کی آئندہ سفارتی ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔

وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود ہیں۔ پاکستانی وفد اجلاس کے رسمی سیشنز کے علاوہ رکن اور شریک ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ مختلف سطحوں پر رابطے کرے گا۔

اے پی پی کے مطابق وزیراعظم ایس سی او سرگرمیوں کے موقع پر شریک ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں باہمی تعلقات، تجارت و سرمایہ کاری، علاقائی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آنے کی توقع ہے۔ وزیراعظم ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے، جو ان کے دورے کے شیڈول کا حصہ ہے۔

2 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صدار ژاپاروف کے درمیان باضابطہ دوطرفہ مذاکرات ہوں گے۔ دونوں رہنما پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات کے مجموعی دائرہ کار کا جائزہ لیں گے اور عملی تعاون کو مزید بڑھانے کے امکانات پر گفتگو کریں گے۔ سرکاری تفصیلات کے مطابق تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی رابطہ کاری، تعلیم، سیاحت اور عوامی سطح کے روابط مذاکرات کے اہم شعبوں میں شامل ہوں گے۔

پاکستان اور کرغزستان وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان علاقائی روابط اور تجارتی امکانات کو وسعت دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک ایس سی او سمیت مختلف علاقائی اور کثیرالجہتی فورمز پر بھی رابطے میں رہتے ہیں۔ موجودہ دورے میں علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کے ساتھ ایسے شعبوں کی نشاندہی بھی متوقع ہے جہاں دونوں ممالک موجودہ سیاسی خیرسگالی کو زیادہ عملی اقتصادی اور ادارہ جاتی تعاون میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

بشکیک میں ہونے والا سربراہی اجلاس شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کے 25 برس مکمل ہونے کے موقع پر منعقد ہو رہا ہے۔ تنظیم میں پاکستان کے علاوہ چین، روس، بھارت، ایران، وسطی ایشیائی ریاستیں اور بیلاروس شامل ہیں۔ ڈان کے مطابق مختلف رکن ممالک کے سربراہان اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں، جس کے باعث علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون، رابطہ کاری اور موجودہ بین الاقوامی صورتحال اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل رہنے کی توقع ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان ایس سی او کے اندر اپنی آئندہ چیئرمین شپ کی تیاری بھی کر رہا ہے۔ حکومت کے مطابق اس دورے کا مقصد سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کے ساتھ کرغزستان سے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا اور دیگر شریک ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانا ہے۔

— اردو ہیڈلائنز ڈیسک، ماخذ: ڈان، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان