لاہور: بھارتی جیلوں سے رہائی پانے والے 25 پاکستانی ماہی گیر واہگہ بارڈر کے راستے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے ضروری قانونی اور سفارتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان ماہی گیروں کو پاکستانی حکام کے حوالے کیا، جس کے بعد ان کی وطن واپسی کا عمل مکمل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ پاکستانی شہری ماہی گیری کے دوران سمندری حدود سے متعلق خلاف ورزی کے الزام میں بھارتی حکام کی تحویل میں آئے تھے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سمندری حدود کے قریب ماہی گیری کرنے والے افراد کی گرفتاری کے واقعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، کیونکہ کھلے سمندر میں واضح نشانات نہ ہونے اور چھوٹی کشتیوں میں جدید سمت شناسی کے آلات کی محدود دستیابی کے باعث ماہی گیر بعض اوقات غیر ارادی طور پر دوسری جانب کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔
رہا ہونے والے ماہی گیروں کو بھارتی حکام نے سرحد تک پہنچایا، جہاں واہگہ کے مقام پر انہیں پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا۔ وطن واپسی کے بعد متعلقہ اداروں نے ضروری دستاویزی اور شناختی کارروائی مکمل کی۔ رہائی پانے والے افراد کے لیے یہ واپسی طویل حراست کے بعد اپنے خاندانوں سے دوبارہ ملنے کا موقع ہے، جبکہ ماہی گیر برادری طویل عرصے سے دونوں ملکوں سے ایسے زیر حراست افراد کی جلد رہائی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کی جیلوں میں موجود شہری قیدیوں اور ماہی گیروں سے متعلق معلومات سفارتی ذرائع سے شیئر کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باوجود قیدیوں کی رہائی اور وطن واپسی کے معاملات انسانی اور قونصلر بنیادوں پر وقتاً فوقتاً آگے بڑھتے رہے ہیں۔ ماہی گیروں کے معاملات میں شناخت کی تصدیق، شہریت کی توثیق اور قانونی کارروائی مکمل ہونے میں وقت لگ سکتا ہے، جس کی وجہ سے بعض افراد سزا یا مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد بھی واپسی کے منتظر رہتے ہیں۔
سمندری سرحد سے متعلق ایسے واقعات بالخصوص بحیرۂ عرب میں پاکستان اور بھارت کے ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ماہی گیروں کو متاثر کرتے ہیں۔ معمولی اور روایتی کشتیوں میں کام کرنے والے ماہی گیر اپنی روزی کے لیے طویل فاصلے تک سمندر میں جاتے ہیں اور موسم، سمندری بہاؤ یا سمت کے تعین میں دشواری کے باعث حدود سے تجاوز کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے دونوں جانب ماہی گیر تنظیمیں اس مسئلے کو صرف قانون نافذ کرنے کے زاویے سے نہیں بلکہ انسانی اور معاشی مسئلے کے طور پر بھی دیکھنے پر زور دیتی رہی ہیں۔
25 پاکستانی ماہی گیروں کی موجودہ واپسی ان خاندانوں کے لیے اہم پیش رفت ہے جو ان کی رہائی کے منتظر تھے۔ تاہم دونوں ملکوں کی تحویل میں موجود دیگر ماہی گیروں اور شہری قیدیوں کے معاملات الگ قانونی اور سفارتی مراحل سے منسلک ہیں، اس لیے اس رہائی کو تمام زیر التوا کیسز کے حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہر قیدی کی رہائی اس کی شناخت، مقدمے کی نوعیت، سزا یا حراست کی مدت اور دونوں حکومتوں کے درمیان ضروری تصدیقی عمل سے مشروط ہوتی ہے۔
ماہی گیروں کی گرفتاریوں کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان انسانی نوعیت کے ان معاملات میں شامل ہے جہاں باقاعدہ قونصلر رابطہ اور بروقت شناختی تصدیق زیر حراست افراد کی جلد وطن واپسی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تازہ رہائی کے بعد واپس آنے والے ماہی گیر اب اپنے آبائی علاقوں اور خاندانوں تک پہنچنے کے لیے متعلقہ پاکستانی اداروں کی کارروائی مکمل کریں گے۔
— اردو ہیڈلائنز ڈیسک، ماخذ: ڈان




