اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے علی بابا گروپ کے ساتھ شراکت داری کے تحت مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ای کامرس سے متعلق منصوبوں کو نومبر تک عملی پیش رفت میں تبدیل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری سطح پر ہونے والے جائزے میں وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے کہا کہ طے شدہ تعاون کو واضح اہداف اور قابل پیمائش نتائج کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس شراکت داری کا ایک اہم مقصد پاکستانی کاروباروں، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں، کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی دینے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال بڑھانا ہے۔ ای کامرس کے ذریعے مصنوعات کی فہرست سازی، خریداروں تک رسائی، برآمدی روابط اور ڈیجیٹل ادائیگیوں جیسے شعبوں میں سہولت کاری کو بھی تعاون کے ممکنہ دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت سے متعلق منصوبوں کے لیے نومبر کی مدت مقرر کرتے ہوئے عمل درآمد میں تاخیر سے بچنے کی ہدایت کی۔ دستیاب رپورٹ میں تمام منصوبوں کی حتمی لاگت، تکنیکی دائرہ کار یا ہر منصوبے کی الگ تکمیل تاریخ نہیں دی گئی، اس لیے نومبر کی ڈیڈ لائن کو مجموعی پیش رفت اور عملی آغاز کے ہدف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ لازماً ہر منصوبے کی مکمل تکمیل کے طور پر۔
پاکستانی حکومت حالیہ عرصے میں ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی برآمدات اور مصنوعی ذہانت کو معاشی ترقی کے اہم شعبوں کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ علی بابا جیسے بڑے عالمی ای کامرس پلیٹ فارم کے ساتھ تعاون سے مقامی فروخت کنندگان کے لیے بیرونی صارفین تک رسائی بڑھ سکتی ہے، تاہم اس کے نتائج کا انحصار تربیت، لاجسٹکس، ادائیگیوں، معیار، برآمدی قواعد اور کاروباری اداروں کی عملی شمولیت پر ہوگا۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو پیش رفت کی نگرانی اور رکاوٹوں کے فوری حل کی بھی ہدایت کی۔ موجودہ مرحلے پر اعلان حکومتی اہداف اور مقررہ ٹائم لائن کی عکاسی کرتا ہے؛ منصوبوں کے حقیقی معاشی اثرات ان کے نفاذ اور پاکستانی کمپنیوں کی جانب سے پلیٹ فارمز کے استعمال کے بعد ہی واضح ہوں گے۔
